بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکی میڈیا ایم ایس نو (MS NOW) کی رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو کا واشنگٹن کا حالیہ دورہ، تل ابیب کی توقع کے برعکس، ایران کے بارے میں واضح حکمت عملی حاصل کئے بغیر اختتام پذیر ہؤا۔
ای، نتانیاهو در شرایطی راهی واشنگتن شد که جنگی که آمریکا و اسرائیل علیه ایران آغاز کردهاند، با مخالفت روزافزون افکار عمومی آمریکا و پیچیدهتر شدن شرایط میدانی روبهرو شده است. اماس نَو تأکید میکند هر دو رهبر اکنون با پیامدهای جنگی مواجهاند که به گفته این گزارش، «از کنترل آنها خارج شده است.»
ایم ایس نو کے مطابق، نیتن یاہو ایسے وقت میں واشنگٹن روانہ ہؤا جب ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی شروع کردہ جنگ کو امریکی عوام کی بڑھتی ہوئی مخالفت اور میدانی حالات کی پیچیدگی کا سامنا ہے۔ ایم ایس نو زور دیتا ہے کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو اب اس جنگ کے ہولناک نتائج کا سامنا کر رہے ہیں جو اس رپورٹ کے مطابق "ان کے قابو سے باہر ہو گئی ہے۔"
اس ذریعے نے مزید لکھا کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے کے باوجود، تل ابیب کا ایران میں حکومت کی تبدیلی کا بنیادی ہدف پورا نہیں ہؤا۔
ایم ایس نو کے مطابق، اسرائیلی انٹیلیجنس نے حملے سے قبل دعویٰ کیا تھا کہ فوجی کارروائی اسلامی جمہوریہ کے خاتمے کا باعث بن سکتی ہے، لیکن پانچ ماہ بعد، ایران میں اقتدار کا ڈھانچہ پوری قوت سے قائم ہے اور اسی وجہ سے عالمی سطح پر اسرائیلی انٹیلیجنس جائزوں کی درستگی کے بارے میں سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔
اس رپورٹ کے مطابق، ایک اسرائیلی اہلکار نے بھی تسلیم کیا کہ "ایران کی حکومت گرانے کے لئے وہ حالات تشکیل نہیں پا سکے جن کی اسرائیل کو توقع تھی" چنانچہ یہ منظرنامہ پورا نہیں ہؤا۔ تاہم تل ابیب اب بھی کہتا ہے کہ ایران پر شدید دباؤ اور مذاکرات کی راہ دونوں کو بیک وقت جاری رکھنا چاہئے۔
ایم ایس نو نے امریکی داخلی صورتحال کی طرف بھی اشارہ کیا اور لکھا کہ ایران کے ساتھ جاری تصادم کو امریکی عوام کی وسیع مخالفت کا سامنا ہے۔ کونیپیاک انسٹی ٹیوٹ (Quinnipiac Institute) کے سروے کے مطابق جس کا رپورٹ میں حوالہ دیا گیا، 60 فیصد امریکی ووٹرز ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے خلاف ہیں اور 74 فیصد امریکی زمینی فوجوں کو ایران بھیجنے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ یہ معاملہ درمیانی مدت کے انتخابات کے قریب آنے پر، ٹرمپ پر سیاسی دباؤ میں اضافے کا باعث بن گیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ