بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور، ڈآکٹر کاظم غریب آبادی نے (منگل اور بدھ کی درمیان رات) 28 جولائی 2026ع کو ایک ٹیلی وژن انٹرویو میں کہا: جھڑپوں کے نئے دور کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو بند کر دیا گیا، / امریکیوں کا یہ دعویٰ کھلا جھوٹ ہے کہ 'کہ آبنائے کھلا ہے'۔
انہوں نے مزید کہا: شاید ہر دو تین دن میں کوئی جہاز اور اس کا عملہ اپنے اپ اور اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر گذرنا چاہیں تو اس کی ذمہ داری ان ہی پر اور اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آبنائے ہرمز کھلا ہے۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور ڈاکٹر کاظم غریب آبادی کے انٹرویو کا خلاصہ:
ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور ڈاکٹر کاظم غریب آبادی کے انٹرویو کا خلاصہ:
• ایران فی الحال صرف عمان کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے، جو آبنائے ہرمز سے متعلق متبادل راستوں پر بات چیت کا پہلا مرحلہ ہے۔
• جھڑپوں کے نئے دور کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو بند کر دیا گیا ہے اور یہ امریکی دعویٰ ـ کہ آبنائے ہرمز کھلا ہے، ـ سراسر جھوٹ اور بے بنیاد ہے۔
• ایران اور عمان نے متبادل راستوں پر گفتگو کے لئے مشترکہ ابتدائی نشست پر اتفاق کیا ہے اور دونوں ممالک کے اپنے الگ الگ مجوزہ منصوبے ہیں۔
• اگر عمان کے ساتھ مفاہمت ہو گئی تو پھر اگلے مراحل پر غور کیا جائے گا، جس میں آبنائے ہرمز کو کھولنا اور اس کے بدلے جنگ، محاصرے اور پابندیوں کے حوالے سے مراعات حاصل کرنا شامل ہے۔ تاہم
• کسی بھی ممکنہ مفاہمت کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہئے کہ امریکہ کو یہ لت پڑ جائے کہ وہ جب چاہے حملہ کرے اور جب چاہے مذاکرات کرے۔
این پی ٹی سے نکلنے کی تجویز
• جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) میں رہنے یا اس سے نکلنے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینا ضروری ہے کیونکہ یہ کوئی آسان فیصلہ نہیں ہے۔
• شمالی کوریا نے این پی ٹی سے علیحدگی اختیار کرکے ایٹم بم بنایا، جبکہ بھارت، پاکستان اور اسرائیل کبھی اس کا حصہ نہیں بنے۔
• اس معاہدے سے انخلا کے فقہی، شرعی اور اسٹراٹیجک پہلو ہیں جن پر غور کرنا ضرری ہے اور اس پر بحث کرنا کوئی ممنوعہ موضوع نہیں ہے۔
• ایران پر دو بار حملہ ہو چکا ہے اور NPT کے تحت اگر کسی ملک کی اعلیٰ قومی سلامتی کے مفادات خطرے میں پڑ جائیں تو وہ 90 دن کے نوٹس کے ساتھ معاہدے سے نکل سکتا ہے۔
• ان حملوں کے بعد ایران کے امن جوہری تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے، لہٰذا یہ سوال جائز ہے کہ ایران کو کب تک اس معاہدے کا پابند رہنا چاہئے، جس سے اس کو آج تک کوئی فائدہ نہیں ملا؟
• ایران جنگ اور امن کی دو مختلف صورتوں میں آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھتا ہے؛ اور امن یا جنگ دونوں صورتوں میں اسے کسی کے حوالے نہیں کرے گا۔
• عمان اور دیگر ثالثوں کا اصرار ہے کہ ایران جنوبی راستے کو تسلیم کرے، لیکن ایران اسے ایک گھنٹے کے لئے بھی تسلیم نہیں کرے گا اور اسی وجہ سے فوجی جھڑپ ہوئی؛ یہ مفاہمت نامے کے تحت بھی اور تاریخی حوالے سے ایران کا اصولی موقف ہے۔
• آبنائے ہرمز سے ہونے والی آمدنی کے بارے میں 120 سے 500 ارب ڈالر تک کے تخمینے لگائے گئے ہیں، لیکن یہ صرف مذاق کی حد تک اچھی بات ہے۔
• جو کوئی اس آبنائے ہرمز سے 50 ارب ڈالر کما سکے، وہ ہمارا ٹھیکیدار بنے اور آدھی رقم خود رکھ لے اور آدھی ایران کو دے۔
• معاشی محاصرے کا ایران کے مذاکراتی فیصلوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا، کیونکہ ایران نے انقلاب کے بعد سے شدید ترین پابندیوں کا سامنا کیا ہے اور ان حالات میں زندگی گذارنے اور ترقی کرنے کا طریقہ سیکھ لیا ہے۔
• کوئی بھی دوسرا ملک ایران کی طرح پابندیوں کا سامنا کرنے کی قوت نہیں رکھتا اور امریکہ کو یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ معاشی محاصرہ ایران کے فیصلوں کو متاثر کر سکے گا۔
• فوجی محاذ پرایران نے اردن اور خطے میں امریکی اڈوں کو بھاری نقصان پہنچایا ہے اور دشمن کے جانی نقصان کا اصل اعداد و شمار امریکی دعوؤں سے کہیں زیادہ ہے۔
• امریکہ اپنے نقصانات چھپا رہا ہے اور ایران نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی عہد شکنی کا پرزور جواب دیتا ہے۔
• جہاں تک سمندری بارودی سرنگوں کو ہٹانے کا سوال ہے تو عمان نے جنوبی راستے سے مائنز ہٹانے کے لئے کسی ملک کو مدعو کرنا چاہا تھا، لیکن ایران نے اس کی اجازت نہیں دی۔
• ایران عمان کی خودمختاری کو متنازعہ نہیں بنانا چاہتا، لیکن آبنائے ہرمز ایران کی قومی سلامتی کے لئے ایک اہم خطرہ بن سکتا ہے، چنانچہ اس آبنائے ہرمز پر ایران کا موقف اٹل ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ