بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || ٹیفلون (Teflon) ٹرمپ چاہے کتنی ہی کوشش کرے کہ اس پر کوئی الزام نہ لگے لیکن، اب یہ حقیقت بالکل عیاں ہو چکی ہے کہ امریکہ نے ایران کے سامنے ذلت آمیز شکست کھائی ہے۔ اس کا ایران کو "بلا شرط ہتھیار ڈالنے" پر مجبور کرنے کا وعدہ اتنا ہی کھوکھلا ہے جتنے کہ اس کے انتخابی وعدے کھوکھلے نکلے: "کبھی جنگ شروع نہ کرنا" اور "امن و آشتی کا صدر بننا"۔ ٹرمپ جو فتح کا دعویٰ کرنے کا راستہ ڈھونڈنے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے، محض امریکہ کو فاتح قرار دے رہا ہے؛ جو کھلا جھوٹ ہے۔ ٹرمپ اپنے جھوٹ کے بارے میں عالمی رضامندی حاصل کرنے میں اس قدر بے بس ہو گیا ہے کہ اس نے اپنے حملوں کا رخ ان عالمی رہنماؤں کی طرف موڑ دیا ہے جو اس کے جنون کی حمایت نہیں کرتے؛ جن میں اس کے اپنے ہی ملک میں ماگا کے کچھ وفادار حامی بھی شامل ہیں۔
تیسری قسط:
آج ایرانی فریق کے بنیادی مطالبات میں سے ایک امریکہ کی جانب سے اس ملک کو پہنچنے والی تباہ کاریوں کا معاوضہ ادا کرنا ہے۔ اس موضوع کے سلسلے میں، یکم فروری 1973ع کو ویتنام کے وزیر اعظم فام وان ڈونگ (Pham Van Dong) کو صدر رچرڈ نکسن (Richard Nixon) کا لکھا ہؤا خط کافی اہم ہے۔
نکسن نے اس خط میں اعلان کیا کہ امریکہ اپنے دستخط شدہ معاہدے ـ مورخہ 27 جنوری 1973ع ـ پر عملدرآمد کرے گا جس میں "شمالی ویتنام کی جنگ کے بعد کی تعمیر نو میں امریکی شراکت" شامل ہے۔
نکسن نے اندازہ لگایا کہ یہ معاوضہ "پانچ سالوں کے دوران 3.25 ارب ڈالر مالیت کی گرانٹس" کی حد میں ہوگا۔ ویتنامی حکام نے نکسن کے وعدے پر اعتماد کیا اور حتیٰ کہ ان اربوں ڈالر کو اپنے جنگ کے بعد کے منصوبوں میں شامل کیا۔ لیکن ایجینٹ اورنج، بی-52 بمبار طیاروں اور ڈیڑھ لاکھ امریکی فوجیوں کی جارحیت سے تباہ ہونے والے ملک کو ایک پیسہ بھی ادا نہیں کیا۔
یاد رہے کہ 1954ع کے جنیوا معاہدے نے بھی ویتنام میں دو سال کے اندر براہ راست صدارتی انتخابات کرانے کا وعدہ کیا تھا۔ اس مہلت کے قریب آتے ہی، امریکہ کے اس وقت کے صدر ڈوائٹ آئزن ہاور (Dwight Eisenhower ) نے اعلانیہ طور پر تسلیم کیا کہ ہو چی منہ (Hồ Chí Minh) غالباً 80 فیصد یا اس سے زیادہ ووٹ حاصل کرکے کامیاب ہوگا۔ امریکہ نے کبھی اس ملک کو آزادانہ انتخابات کرانے کی اجازت نہیں دی۔
امریکی حکومتوں نے امریکہ کی مقامی [سرخ فام] قوموں کے ساتھ 500 سے زائد معاہدوں پر دستخط کئے، ان میں سے ایک بھی ایسا ملنا مشکل ہے جس کی پاسداری کی گئی ہو۔
مورخین نے اس افسوسناک اور مایوس کن ریکارڈ کو "ٹوٹے ہوئے معاہدوں کی پگڈنڈی" (Trail of Broken Treaties) کا نام دیا ہے۔ سنہ
2003ع میں ایک رات، جب میں نے پیونگ یانگ میں شمالی کوریا والوں کے سامنے یہ تاریخ بیان کی، تو ان کا سانس ان کے سینوں میں رک گیا؛ اور پوچھنے لگے کہ "کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ کی کوئی عزت و شرافت نہیں ہے؟" بدقسمتی سے میں نے سر ہلایا، جبکہ میں نے کوریائی جنگ کے خاتمے کے لئے امن معاہدے کی ان کی امیدوں کو معدوم ہوتے دیکھا؛ نہ کہ محض اس جنگ بندی کے معاہدے کی امیدوں کو، جس پر ٹھیک 50 برس قبل دستخط ہوئے تھے۔
مزید بر آں یہ کہ امریکہ اب بھی جنگ بندی معاہدے کے آرٹیکل 15 کی خلاف ورزی کر رہا ہے جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے: "دونوں فریق کوریا کی کسی بھی قسم کی ناکہ بندی سے باز رہیں گے۔" امریکہ شمالی کوریا کے خلاف مسلسل ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہے جو بین الاقوامی اعتبار، نئی سرمایہ کاری، تجارت اور سفر کو روک کر اس ملک کے مالی شعبے کو شدید متاثر کر رہی ہے۔ ایران کے خلاف ٹرمپ کی نئی ناکہ بندی کی طرح، امریکہ ان کمپنیوں، بحری جہازوں اور افراد پر سخت پابندیاں لگاتا ہے جو شمالی کوریا کو کوئلے اور معدنیات کی برآمد میں مدد پہنچاتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر مصنف: جارج کاتسیافیکاس؛ یونانی نژاد امریکی مورخ، سماجی مفکر اور مصنف۔
ماخذ: المیادین انگریزی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ