بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || ٹیفلون (Teflon) ٹرمپ چاہے کتنی ہی کوشش کرے کہ اس پر کوئی الزام نہ لگے لیکن، اب یہ حقیقت بالکل عیاں ہو چکی ہے کہ امریکہ نے ایران کے سامنے ذلت آمیز شکست کھائی ہے۔ اس کا ایران کو "بلا شرط ہتھیار ڈالنے" پر مجبور کرنے کا وعدہ اتنا ہی کھوکھلا ہے جتنے کہ اس کے انتخابی وعدے کھوکھلے نکلے: "کبھی جنگ شروع نہ کرنا" اور "امن و آشتی کا صدر بننا"۔ ٹرمپ جو فتح کا دعویٰ کرنے کا راستہ ڈھونڈنے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے، محض امریکہ کو فاتح قرار دے رہا ہے؛ جو کھلا جھوٹ ہے۔ ٹرمپ اپنے جھوٹ کے بارے میں عالمی رضامندی حاصل کرنے میں اس قدر بے بس ہو گیا ہے کہ اس نے اپنے حملوں کا رخ ان عالمی رہنماؤں کی طرف موڑ دیا ہے جو اس کے جنون کی حمایت نہیں کرتے؛ جن میں اس کے اپنے ہی ملک میں ماگا کے کچھ وفادار حامی بھی شامل ہیں۔
چوتھی اور آخری قسط:
مزید بر آں یہ کہ امریکہ اب بھی جنگ بندی معاہدے کے آرٹیکل 15 کی خلاف ورزی کر رہا ہے جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے: "دونوں فریق کوریا کی کسی بھی قسم کی ناکہ بندی سے باز رہیں گے۔" امریکہ شمالی کوریا کے خلاف مسلسل ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہے جو بین الاقوامی اعتبار، نئی سرمایہ کاری، تجارت اور سفر کو روک کر اس ملک کے مالی شعبے کو شدید متاثر کر رہی ہے۔ ایران کے خلاف ٹرمپ کی نئی ناکہ بندی کی طرح، امریکہ ان کمپنیوں، بحری جہازوں اور افراد پر سخت پابندیاں لگاتا ہے جو شمالی کوریا کو کوئلے اور معدنیات کی برآمد میں مدد پہنچاتے ہیں۔
امریکہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں اور معاہدوں سے منہ موڑ کر، یا انہیں کبھی سینیٹ میں رائے شماری کے لئے پیش نہ کر کے، بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ ایک نمایاں مثال بین الاقوامی عدالت انصاف کے فیصلوں کو نظر انداز کرنا ہے ـ ایسا ادارہ جس سے امریکہ اور "اسرائیل" ـ خود کو دائرہ اختیار سے مستثنیٰ سمجھتے ہیں۔ دوسری مثال موسمیاتی تبدیلی سے متعلق پیرس معاہدے سے سادہ سا انخلا ہے؛ ایسا اقدام جسے ہمارے پوتے پوتیاں افسوس کے ساتھ تمام ادوار کا سب سے بڑا جنگی جرم قرار دے سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بالکل واضح وجوہات کی بنا پر، امریکہ کبھی بین الاقوامی فوجداری عدالت میں شامل نہیں ہؤا۔
کہ آیا اب عقل حکمران ہوگی یا نہیں؟ یہ ایک بلاجواب سوال ہے۔ نہ صرف شیطانی ڈونلڈ اور سیٹن یاہو نے بنی نوع انسان پر ایک تاریک سایہ ڈال رکھا ہے، بلکہ امریکہ کی تاریخی سابقہ کارکردگی سے عیاں ہے کہ مشکل دن درپیش ہیں۔ آج اس بات کا امکان کہیں زیادہ ہے کہ امریکہ اور "اسرائیل" ایک بار پھر ایرانیوں کو قتل کریں اور ملک کو تباہ کریں، بجائے اس کے کہ وہ راکشس ایک امن معاہدے پر رضامند ہوں اور اس تنازع کو ختم کریں جس کی ایران نے کبھی خواہش نہیں رکھی اور اس کا آغاز کبھی نہیں کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر مصنف: جارج کاتسیافیکاس؛ یونانی نژاد امریکی مورخ، سماجی مفکر اور مصنف۔
ماخذ: المیادین انگریزی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ