بین الاقوامی اہل بیت نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ صنعا کی افواج نے بحیرہ احمر میں دو سعودی تیل بردار جہآزوں کے خلاف دو فوجی آپریشن کئے، اور یوں یمن نے بحری ناکہ بندی کو سعودی ساحلوں تک منتقل کر دیا۔
لبنانی اخبار 'الاخبار' نے سیاسی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ان حملوں کے بعد ریاض نے ایک بار پھر عمان کی ثالثی کی راہ اپنا لی ہے اور کشیدگی کم کرنے کے لئے ایک وفد مسقط روانہ کیا ہے؛ اور عمان کی وزارت خارجہ نے بھی تمام فریقوں سے رابطے بڑھا دیے ہیں۔
یمن کی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے بتایا کہ سعودی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی پر دو سعودی ٹینکروں کو بیلسٹک اور کروز میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا، جس سے ان میں شدید آگ بھڑک اٹھی۔
صنعا نے سعودی حکومت کو واضح طور پر متنبہ کیا کہ اگر اس نے کوئی جارحیت کی تو اس کی سرزمین کو بے مثال فوجی کارروائی کا نشانہ بنایا جائے گا۔
یمنی افواج نے کہا کہ 12 سالہ محاصرے کے جواب میں سعودی حکومت سے منسلک تمام جہازوں اور ٹینکروں کی بحری ناکہ بندی جاری رہے گی۔
ماہرین کے مطابق یہ حملہ اس بات کا پیغام ہے کہ صنعا بحیرہ احمر میں سعودی بحری ناکہ بندی کا دائرہ مزید تنگ کرے گا اور یہ کارروائی صرف سعودی بندرگاہوں پر آنے جانے والے جہازوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ان تمام جہازوں کو پیغام ہے جو نہر سوئز کے راستے سے، باب المندب کی ناکہ بندی کو نظرانداز کرنے کی کوشش کریں گے، اور وہ بیرونی جہاز بھی اس ناکہ بندی کا نشانہ بنیں گے جو سعودی بندرگاہوں پر لنگرانداز ہونگے۔

یورپی بحری مشن (ASPIDES) نے اسرائیل، امریکہ اور سعودی عرب سے منسلک جہازوں کو یمنی ساحلوں کے قریب بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں سفر سے خبردار کیا ہے۔ اس مشن نے کہا کہ سعودی بندرگاہوں پر حالیہ طور پر لنگر انداز یا کارگو لوڈ کرنے والے جہاز بھی ممکنہ اہداف بن سکتے ہیں۔
یمنی بحری ذرائع نے بتایا کہ تقریباً تمام تجارتی جہاز صنعا کے بحری فیصلوں کی پابندی کر رہے ہیں اور چینی جہازوں نے ـ بشمول ان جہازوں نے جو سعودی تیل دوسرے ممالک لے جا رہے تھے ـ یمن سے گذرنے کی اجازت کے لئے درخواستیں دی ہیں۔ چینی ذرائع نے سعودی تیل لے جانے والے ایک چینی جہاز کی سیٹلائٹ تصاویر جاری کیں جو باب المندب کے قریب یمنی اجازت کا انتظار کر رہا ہے۔
سعودی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی کی بَھبْکیوں کے باوجود، سعودی عرب کی جانب سے کوئی عملی جوابی کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی سوا اس کے کہ سعودی قبیلےنے ثالث کا سہارا لے کر کشیدگی کم کرنے کی طرف قدم بڑھا، جارح ظالموں اور قوموں کو بھمکری کے ذریعے سزا دینے والوں کا انجام عام طور پر یہی ہوتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ