27 ستمبر 2026 - 18:42
امریکہ کو مغربی ایشیا سے نکال باہر کرنے کا ایرانی انداز - 2

چیتھم ہاؤس تھنک ٹینک نے امریکی اڈوں کی صورتحال کے بارے میں رپورٹ دی ہے کہ 12 سے زیادہ امریکی اڈوں کو نمایاں نقصان پہنچا ہے۔ ایران نے ثابت کرکے دکھایا کہ سستے غیر متناسب ہتھیار جدید فضائی دفاع میں گھس بھی سکتے ہیں اور اور دشمن کے بنیادی ٹھکانوں کو غیر متناسب نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || کئی دہائیوں تک، مغربی ایشیا میں امریکی فوجی اڈوں کا وسیع نیٹ ورک واشنگٹن کے لئے خطے میں طاقت کے استعمال کا ایک اہم ذریعہ تھا؛ بحرین، قطر اور کویت سے لے کر امارات، سعودی عرب، عراق، اردن اور عمان تک۔ لیکن اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف حالیہ امریکی جنگ نے واشنگٹن اور عرب ممالک کے سامنے ایک بنیادی سوال رکھ دیا ہے اور وہ یہ "کیا یہی اڈے جو مبینہ طور پر سلامتی کے ضامن تھے، اب زدپذیر مقامات اور قابل رسائی اہداف بن گئے ہیں؟

دوسری قسط:

وہ اڈے جو تحفظ کے بجائے، بدامنی کا باعث ہیں

دوسرا مسئلہ میزبان ریاستوں پر اس صورتحال سے پڑنے والے اثرات ہیں؛ کیونکہ خلیج فارس کی عرب ممالک نے گذشتہ دہائیوں میں، امریکی فوجی موجودگی کو اپنے سلامتی کے ڈھانچے کا بنیادی حصہ سمجھا ہے۔

لیکن نیویارک ٹائمز نے حال ہی میں رپورٹ دی ہے کہ مہینوں کی جنگ اور میزائل و ڈرون حملوں کے بعد، خلیج فارس کی عرب ریاستوں کو، پہلے سے کہیں زیادہ، امریکی سلامتی کی ضمانتوں کی کمزوریوں کا سامنا ہے اور ان میں سے کچھ تہران کے ساتھ براہ راست بات چیت سمیت دیگر متبادل راستوں کو تلاش کر رہے ہیں۔

سادہ الفاظ میں، وہ اڈہ جو میزبان ریاست کی دفاعی ڈھال بننا تھا، جنگ کی صورت میں خود ہی اس بات کا سبب بنتا ہے کہ یہ ریاست میدان جنگ بن جائے۔ یہ وہی تضاد ہے جس کو اس وقت خطے کی ریاستوں کا سامنا ہے؛ عام حالات میں امریکی افواج کی میزبانی ایک قسم کی تسدید (Deterrence) پیدا کر سکتی ہے، لیکن ایران اور امریکہ کی براہ راست جنگ میں، وہی فوجی موجودگی میزبان ریاست کو مخالف فریق کے اہداف کی فہرست میں رکھ سکتی ہے۔

اسی زاویئے سے، عرب ریاستوں کو اپنے حسابات میں تبدیلی کو سنجیدگی سے لینا چاہئے۔ فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں بھی کہا گیا ہے کہ خلیج فارس کی ریاستیں ایران کے بارے میں اپنے رویئے پر نظرثانی اور علاقائی سلامتی کے طریقہ کار کی طرف بڑھنے کے لئے کوشاں ہیں۔

واشنگٹن بھی ایک نظرثانی پر پہنچ ہی گیا ہے

زیادہ اہم بات یہ ہے کہ مسئلہ صرف عرب ریاستوں کی نئی فہم تک محدود نہیں ہے؛ خود امریکہ بھی خطے میں اپنی فوجی تعیناتی کے ماڈل پر نظرثانی کر رہا ہے۔

یہ تبدیلی دراصل ایک نئی حقیقت کا اعتراف ہے؛ وہ یہ کہ بڑا اور مستقل اڈہ اب لازمی طور پر طاقت کی علامت نہیں ہے؛ یہ ایک بڑا اور مستقل ہدف ہو سکتا ہے۔

کچھ رپورٹیں بتاتی ہیں کہ امریکہ نے اردن جیسے دور دراز اڈوں کی طرف نقل مکانی کی ہے، گوکہ وہاں بھی اس کو تحفظ حاصل نہیں ہؤا اور وہاں بھی زدپذیر ہے۔ یہاں تک کہ امریکی افواج کی منتقلی اور بکھراؤ کے بارے میں شائع ہونے والی رپورٹوں کو بھی اسی تناظر میں سمجھا جا سکتا ہے۔

نیویارک ٹائمز نے اس سے پہلے رپورٹ دی تھی کہ ایرانی حملوں کے باعث خطے میں موجود امریکی افواج کو مجبوراً اپنی علاقائی تنصیبات کے اندر سے کاروائیاں کرنے کے بجائے فاصلاتی طور پر، اور اور بکھرے ہوئے منتشر انداز میں سرانجام دینا پڑیں۔

"طاقت کی علامت" سے "انخلاء کا سبب" بننے تک

اس دوران، ایک اور اہم جغرافیائی-سیاسی (Geo-political) نتیجہ بھی تشکیل پا رہا ہے۔ اگر خود امریکی اڈے عرب ریاستوں کو حملے کی زد میں لانے کا سبب بنتے ہیں، تو خطے کے ممالک کی اس سلامتی ماڈل پر انحصار کرنے کی رغبت کم ہو جائے گی۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ امریکہ کو اچانک مغربی ایشیا سے نکال دیا گیا ہے یا اس کے تمام عرب اتحادی واشنگٹن سے دور ہو گئے ہیں؛ ایسا نتیجہ لینا ابھی قبل از وقت ہے۔ لیکن خطے میں امریکی موجودگی کی نئی تعریف کا امکان پہلے سے زیادہ واضح ہو گیا ہے۔

اس تبدیلی کی اہمیت یہ ہے کہ حالیہ جنگ نے صرف چند امریکی تنصیبات پر ایران کی حملے کی صلاحیت کو عیاں نہیں کیا؛ بلکہ خطے میں امریکی فوجی ڈھانچے کے سامنے سنجیدہ سوالات رکھ دیئے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: امیر حمزہ نژاد

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha