اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، آسکر ایوارڈ یافتہ اداکارہ سوزن سارینڈن اور معروف ٹی وی سیریز ’’ہیکس‘‘ کی اداکارہ ہانا این بائنڈر کو نیویارک میں فلسطین کی حمایت میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے کے دوران پولیس نے گرفتار کر لیا۔ یہ مظاہرہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بنیامین نیتن یاہو کی موجودگی کے موقع پر کیا گیا تھا۔
یہ مظاہرہ ’’یہودیوں کی آواز برائے امن‘‘ نامی گروپ نے منعقد کیا تھا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی روکنے اور غزہ میں جنگ کے خاتمے کے مطالبات درج تھے۔
انڈیپنڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق، نیویارک پولیس نے کہا کہ مظاہرین کو جگہ خالی کرنے کی وارننگ دی گئی تھی، تاہم انہوں نے سڑک پر احتجاج جاری رکھا، جس کے بعد متعدد افراد کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کیا گیا۔ پولیس کی ابتدائی رپورٹ میں گرفتار افراد کی درست تعداد نہیں بتائی گئی تھی، تاہم بعد کی رپورٹس میں اس مظاہرے کے دوران 100 سے زائد افراد کی گرفتاری کی اطلاع دی گئی ہے۔
سوزن سارینڈن نے ایسا لباس پہن رکھا تھا جس پر لکھا تھا: ’’بموں کو نہیں، عوام کو مالی مدد دیں‘‘، اسی دوران انہیں پولیس نے گرفتار کر لیا۔ ہانا این بائنڈر بھی گرفتار ہونے والوں میں شامل تھیں۔
سارینڈن اور این بائنڈر اس سے قبل بھی فلسطین کے حوالے سے اپنے علانیہ مؤقف کے باعث فلمی صنعت میں ممکنہ دباؤ کے بارے میں بات کر چکی ہیں۔
سارینڈن نے ستمبر میں کہا تھا کہ فلسطین کی کھل کر حمایت کرنے کے باعث انہیں فلموں میں بعض کرداروں کے حصول پر اثرات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
این بائنڈر نے بھی رواں سال کانز فلم فیسٹیول میں کہا تھا کہ فلسطین کے بارے میں خاموش رہنے کی قیمت انہیں اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کو نقصان پہنچنے کی قیمت سے زیادہ محسوس ہوتی ہے۔
آپ کا تبصرہ