بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا بحوالہ العالم؛ سعودی عرب کے سرکاری بیان کے مطابق، جنوبی عبوری کونسل کے سربراہ 'عیدروس الزبیدی'، ـ جنہیں ریاض آنے کی دعوت دی گئی تھی ـ نامعلوم منزل کی طرف فرار ہو گئے ہیں اور کونسل کے اراکین کو غیر یقینی صورتحال میں چھوڑ گئے ہیں۔
ادھر الجزیرہ نے رپورٹ دی ہے کہ مبینہ "یمن میں قانونی حکومت کی حمایت کے اتحاد" کے ترجمان سعودی میجر جنرل ترکی المالکی نے اعلان کیا: 4 جنوری 2026 کو، اتحادی افواج کی کمانڈ نے عیدروس الزبیدی کو مطلع کیا کہ وہ 48 گھنٹوں کے اندر سعودی عرب آئیں تاکہ سعودی حمایت یافتہ یمنی صدارتی کونسل کے سربراہ، رشاد العلیمی اور سعودی قیادت میں اتحادی افواج کے درمیان کشیدگی اور جنوبی عبوری کونسل کی افواج کی طرف سے حضرموت اور المہرہ کے صوبوں پر حملوں کی وجوہات پر بات چیت کی جا سکے۔
المالکی نے مزید کہا کہ جنوبی یمن ٹرانزیشنل کونسل کے سربراہ الزبیدی نے 6 جنوری کو اپنے سعودی عرب پہنچنے کی اطلاع دی اور وفد ایئرپورٹ کی طرف روانہ ہوا، لیکن یمنی اایئر لائنز کے طیارے کی پرواز، جس میں وہ سوار تھے، تین گھنٹے سے زیادہ مؤخر ہوئی۔
سعودی عرب نے اعلان کیا کہ میجر جنرل عیدروس الزبیدی، طے شدہ پروگرام کے برعکس نامعلوم منزل کی طرف فرار ہو گئے ہیں۔
اسی دوران، یمنی صدارتی کونسل کو یہ معلومات بھی موصول ہوئی ہیں کہ عیدروس الزبیدی نے آدھی رات کے قریب الحدید اور الصویلح کیمپوں سے بکتر بند گاڑیوں، جنگی گاڑیوں، بھاری اور ہلکے ہتھیاروں اور گولہ بارود پر مشتمل ایک بڑی فوجی قوت کو صوبہ ضالع کی طرف متحرک کیا ہے۔
اسکائی نیوز نے سعودی عرب کے سرکاری بیان کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ الزبیدی جنوبی عبوری کونسل کے دیگر اراکین اور رہنماؤں کو مطلع کئے بغیر منظر چھوڑ گئے ہیں، حالانکہ انہیں یمن کے مسائل پر سعودی عرب کے بلائی گئی ایک کانفرنس میں شرکت اس ملک کا دورہ کرنا تھا۔
دوسری طرف، سعودی حمایت یافتہ یمنی صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے ایک سرکاری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ جنوبی عبوری کونسل کے سربراہ عیدروس الزبیدی کی رکنیت منسوخ کر دی اور ان کا معاملہ ـ "بڑی غداری" اور قومی سلامتی کے خلاف کارروائی کے الزام میں ـ اٹارنی جنرل کے سپرد کیا۔
اس حکم کے مطابق، الزبیدی پر الزام لگایا گیا ہے کہ انھوں نے جنوبی یمن کے واقعات کا غیر قانونی فائدہ اٹھاتے ہوئے شہریوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی کی، ملک کے سیاسی اور اقتصادی مقام کو نقصان پہنچایا اور بغاوت اور سرکشی سے نمٹنے کی حکومتی کوششوں میں رکاوٹ ڈالی۔
الزبیدی کے عہدے سے ہٹائے جانے اور نامعلوم مقام پر فرار ہونے، نیز ان کی جانب سے صوبہ ضالع بھیجنے کے لیے افواج کی منتقلی کی اطلاع کے ساتھ ہی، انٹیلی جنس ذرائع نے آج صبح رپورٹ دی کہ سعودی فضائیہ نے جنوبی یمن کے صوبہ ضالع کے ـ جنوبی عبوری کونسل سے وابستہ علاقوں پر بمباری کی ہے۔
ادھر یمنی میڈیا نے رپورٹ دی ہے کہ سعودی فضائیہ کے جہازوں نے ضالع کے علاقے زبید میں واقع 'الزند' کیمپ پر بمباری کی، جو متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ جنوبی عبوری کونسل سے وابستہ ہے۔
المیادین نیٹ ورک نے بھی رپورٹ دی کہ سعودی عرب نے زبید کے علاقے پر چھ مرتبہ بمباری کی۔
اس بمباری میں عدن سے منتقل شدہ ہتھیاروں اور ساز و سامان کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں شدید دھماکے ہوئے۔
اسی سلسلے میں سعودی عرب نے اعلان کیا کہ اس نے صوبہ ضالع میں جنوبی عبوری کونسل سے وابستہ دستوں پر پیشگی حملہ کیا ہے۔
مبصرین کی رائے کے مطابق یہ جنگ صہیونی ریاست کے مفادات کے لئے لڑی جا رہی ہے جس سے عالم اسلام کو کوئی فائدہ نہیں ملتا۔
سعودی عرب نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے معاملے کو مؤخر کیا گیا ہے جس کے ایسی خبریں گردش کرنے لگی تھیں کہ امارات اور اسرائیل نے خفیہ ڈیل کی بنیاد پر سعودی عرب کے خلاف کچھ خطرناک سازشیں تیار کی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ