23 جولائی 2026 - 16:22
انصار اللہ کے سینئر رہنما کی سعودی حکومت کو وارننگ؛ "فرعون اور قارون جیسا انجام منتظر ہے"

یمن کی مسلح افواج کی جانب سے "محاصرہ کے بدلے محاصرہ" کی حکمتِ عملی کے تحت سعودی بحری آمدورفت کے خلاف کارروائیوں کے آغاز کے بعد انصار اللہ کے سینئر رہنما محمد الفرح نے سعودی حکمرانوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جارحیت اور ہٹ دھرمی جاری رہی تو ان کا انجام "فرعون اور قارون" جیسا ہوگا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، یمن کی تحریک انصار اللہ کے سیاسی دفتر کے سینئر رکن محمد الفرح نے کہا کہ یمنی حکومت آج جو اقدامات کر رہی ہے، وہ بلااستثنا ہر یمنی کے مفاد میں ہیں۔

آل سعود کی پالیسی ہمیشہ یمن کو کمزور کرنے کی رہی

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ہمیشہ سے یمن کا دشمن رہا ہے اور عبدالعزیز آل سعود کے دور سے اس کی پالیسی یمن کو کمزور کرنے، اسے زیرِ نگیں لانے اور اس پر تسلط قائم کرنے پر مبنی رہی ہے۔

"اگر انصار اللہ نہ ہوتی تو سعودی عرب پورے یمن پر قابض ہو جاتا"

محمد الفرح نے کہا کہ اگر وہ لوگ، جنہیں "حوثی" کہا جاتا ہے، یمنی قبائل، یمنی فوج اور آزاد عوام سعودی جارحیت کے سامنے نہ ڈٹتے تو سعودی عرب پورے یمن پر قبضہ کر لیتا، اپنے حمایت یافتہ عناصر کو مسلط کر دیتا اور ہر مخالف قوت کے ساتھ وہی سلوک کرتا جو اس نے اپنے اتحادی گروہوں کے ذریعے دیگر علاقوں میں کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس کے بعد پشیمانی کا کوئی فائدہ نہ ہوتا اور کوئی بھی آل سعود کی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھانے کی جرات نہ کرتا۔

قومی اتحاد اور یمن کے وسائل پر انحصار کی دعوت

انصار اللہ کے رہنما نے تمام یمنی عوام اور سیاسی جماعتوں سے قومی اتحاد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ سب کو سعودی جارحیت کے خلاف متحد ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یمن کے قدرتی وسائل تمام یمنی عوام کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہیں اور ملک کو دنیا کے خوشحال ترین ممالک میں شامل کر سکتے ہیں، اس لیے بیرونی طاقتوں یا خلیجی اور مغربی ممالک کے دارالحکومتوں میں انحصار یا "مزدوری" کی ضرورت نہیں۔

"سعودی حکومت کا انجام فرعون جیسا ہوگا"

محمد الفرح نے کہا کہ سعودی عرب اگر یمن کے خلاف گیارہ سالہ محاصرے اور جارحیت پر اصرار جاری رکھتا ہے تو اس کا انجام بھی ظالم حکمرانوں جیسا ہوگا، کیونکہ اللہ کا قانون ظالموں کے بارے میں تبدیل نہیں ہوتا۔

یمن کی مسلح افواج کی جانب سے سعودی جہاز رانی پر پابندی اور دو سعودی جہازوں کے خلاف کارروائی کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے لکھا کہ جب اللہ کسی ظالم کو ہلاک کرنا چاہتا ہے تو اسے مزید سرکشی اور تکبر میں مبتلا کر دیتا ہے۔

انہوں نے حضرت موسیٰؑ اور فرعون کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فرعون نے سمندر کا معجزہ اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود ظلم سے باز نہ آیا، یہاں تک کہ غرق ہو گیا اور اس وقت ایمان لایا جب اس کا کوئی فائدہ نہ رہا۔ محمد الفرح نے کہا کہ آج سعودی حکومت بھی اسی راستے پر گامزن ہے اور اس کا انجام بھی اسی طرح ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب سعودی حکومت کو اپنی غلطیوں کا احساس ہوگا تو اس وقت پشیمانی کوئی فائدہ نہیں دے گی۔ ان کے بقول آج سعودی حکومت کو جن حالات کا سامنا ہے، وہ اس کے زوال کے آثار ہیں، کیونکہ یہ حکومت خطے کے عوام کے خلاف ظلم اور جارحیت کی پالیسی پر عمل پیرا رہی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha