اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، انصار اللہ کے سیاسی دفتر کے رکن حزام الاسد نے خبر رساں ادارے العہد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’محاصرے کے جواب میں محاصرہ‘‘ کی حکمت عملی سعودی عرب کے خلاف یمن کے نئے اقدامات میں پہلا قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ یمن کے خلاف کئی برسوں سے جاری جنگ اور محاصرے کے تناظر میں ان اقدامات کا مقصد محاصرہ ختم کرنا، جارحیت کا خاتمہ، یمنی عوام کی مشکلات کم کرنا اور ملک کے جائز حقوق کا حصول ہے۔
حزام الاسد نے کہا کہ صنعا اس حکمت عملی کے تحت سعودی عرب کی درآمدات اور برآمدات کو شدید مشکلات سے دوچار کرنے کی کوشش کرے گا۔ انہوں نے سعودی عرب کے پڑوسی ممالک سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ ان اقدامات کو ناکام بنانے میں ریاض کے ساتھ تعاون نہ کریں۔
انصار اللہ رہنما نے دعویٰ کیا کہ یمنی مسلح افواج کے پاس محاصرہ ختم کرانے کے لیے متعدد راستے موجود ہیں اور اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
انہوں نے یمنی مسلح افواج کی کارروائیوں کو دفاعی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یمنی عوام اب محاصرے کا تسلسل قبول نہیں کریں گے۔
حزام الاسد نے سعودی حکام کے ان بیانات کو بھی مسترد کیا جن میں یمن کے خلاف محاصرے کی تردید کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یمن کے ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور زمینی راستوں پر عائد پابندیاں اب بھی جاری ہیں اور اس کے انسانی اثرات کی ذمہ داری سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں پر عائد ہوتی ہے۔
آپ کا تبصرہ