بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || حال ہی میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے ہندوستان اور پاکستان جیسے اداکاروں کو دونوں فریقوں کے درمیان بڑھتے ہوئے مقابلے کے میدان میں لانے کی کوششوں کے بارے میں رپورٹس شائع ہوئی ہیں، لیکن خفیہ دستاویزات کے ایک مجموعے کا انکشاف اس محاذ آرائی کی نئی جہتوں کو عیاں کرتا ہے۔ یہ جہتیں ظاہر کرتی ہیں کہ ریاض اور ابوظہبی کے درمیان تنازعات نہ صرف نئے مراحل میں داخل ہوئے ہیں بلکہ یہ بالواسطہ تصادم کی مزید پیچیدہ اور ممکنہ طور پر زیادہ خطرناک اشکال کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
ان دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ خلیج فارس تعاون کونسل کی دو طاقتوں کے درمیان مقابلہ سفارتی اور اقتصادی تنازعات سے آگے بڑھ کر "مخلوط جنگ" (Hybrid Warfare) کے میدان میں داخل ہو گیا ہے۔ ایک ایسی جنگ جس میں تشہیر و ابلاغ، انٹیلی جنس اور نفسیاتی اوزار کو ـ حریفوں کو متاثر کرنے کے لئے ـ استعمال کیا جاتا ہے، اور بحرین اور اسرائیل جیسے تیسرے فریق اس میں سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔
پس پردہ تنازعات سے بیانیوں کی جنگ میں منتقلی
شائع ہونے والی دستاویزات کے مطابق متحدہ عرب امارات اور بحرین کے اعلیٰ اداروں نے ایک مشترکہ ٹیم تشکیل دی ہے جس میں میڈیا ایکٹوسٹ، ڈیجیٹل ایکٹوسٹ اور انسانی حقوق کے شعبے سے منسلک افراد شامل ہیں۔ ٹیم کا اصل مشن سعودی عرب کو براہ راست نشانہ بنانا اور اس کی علاقائی اور بین الاقوامی ساکھ کو داغدار کرنا ہے۔
یہ کارروائیاں عین اسی وقت ہوئی ہیں جب ریاض اور ابوظہبی کے درمیان جنوبی یمن اور سوڈان سمیت حساس علاقائی مسائل پر سیاسی اور تزویراتی اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ عرب اور مغربی میڈیا، سوشل میڈیا، اور مربوط ڈیجیٹل اکاؤنٹس کا استعمال کرتے ہوئے، مشترکہ ٹیم نے یہ بیانیہ قائم کرنے کی کوشش کی کہ سعودی عرب علاقائی بحرانوں کا بنیادی سبب یا مجرم ہے۔ یہ بیانیہ جان بوجھ کر امریکی اور یورپی سامعین کے لئے ڈیزائن اور تیار کیا گیا تھا۔
بحرین: انتظامی شریک لیکن سائے میں (Shadow executive partner)
ان انکشافات کا ایک اہم ترین پہلو، اس طریقہ کار میں، بحرین کا فعالانہ کردار ہے۔ آپریشن کے دوران بحرین کے سیکورٹی اور انٹیلی جنس ادارے نہ صرف موجود تھے بلکہ ان کا اس کے نفاذ میں بھی براہ راست کردار بھی تھا؛ حالانکہ منامہ، سرکاری سطح پر، ہمیشہ جی سی سی کے اتحاد کو برقرار رکھنے اور کشیدگی میں اضافے سے گریز کرنے پر زور دیتا آیا ہے!
متحدہ عرب امارات کے ساتھ بحرین کے گہرے اقتصادی تعلقات، بشمول مالی، جائیداد کی خرید و فروخت اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں ابوظہبی کی وسیع سرمایہ کاری، بحرین کے فیصلہ سازی کے مراکز میں متحدہ عرب امارات کے اثر و رسوخ کا باعث بنی ہے اور اسی صورت حال نے منامہ کو ایک پوشیدہ لیکن موثر کردار ادا کرنے کی راہ ہموار کی ہے۔
اسرائیل اور مسابقت کی ٹرانس ریجنل سطح پر منتقلی
اسرائیل کا کردار، افشا ہونے والی دستاویزات کے حساس ترین حصوں میں سے ایک ہے۔ اکتوبر 2024 کی ایک "ٹاپ سیکرٹ" دستاویز میں موساد کی نگرانی میں متحدہ عرب امارات، بحرین اور اسرائیل پر مشتمل سہ فریقی ٹیم کی تشکیل کا حوالہ دیا گیا ہے۔ ٹیم، ـ جس کا کوڈ نام اے پی ایس (APS) تھا، ـ کے پاس ایک مشترکہ آپریشن روم تھا جو میڈیا، انٹیلی جنس، اور علاقائی بیانئے کے انتظامی مشن کا ذمہ دار تھا۔
موساد کے سربراہ نے اس ڈھانچے کی تاثیر بڑھانے کے لئے بحرین میں سخت سیکیورٹی مذاکرات کئے ہیں اور بالآخر بحرین کی قومی انٹیلی جنس سروس کے کچھ عناصر سہ فریقی ٹیم میں شامل ہو گئے ہیں۔ یہ تعاون عربوں کی باہمی اور اندرونی دشمنی کو مزید پیچیدہ اور علاقائی سطح پر منتقل کرتا ہے۔
انسانی حقوق کا آلاتی استعمال اور بامقصد بہتان تراشی
دستاویزات سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ امجد طہٰ، عیسیٰ العربی اور عیسیٰ الشیجی جیسے افراد نے "تحقیق"، "انسانی حقوق" اور "صحافت" جیسے عناوین (اور ٹائٹلز) کے ساتھ، اس آپریشن میں کلیدی کردار ادا کیا:
امجد طہ نے اکیڈمک بھیس میں سیاسی تجزیے تیار کئے، عیسیٰ العربی نے انسانی حقوق کی چنی ہوئی رپورٹیں شائع کیں اور عیسیٰ الشیجی نے مختلف نیٹ ورکس پر پیغامات اور میڈیا کی سرگرمیوں کو مربوط کیا۔
یہ سرگرمیاں سعودی عرب پر بیانئے اور دباؤ کو منظم کرنے کی ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ حتیٰ کہ بعض سعودی صحافیوں اور کارکنوں کے اسرائیلی پالیسیوں کے حوالے سے تنقیدی موقف کو جان بوجھ کر "یہود دشمنی" کے الزامات کے زمرے میں پیش کیا گیا ہے تاکہ امریکی اور یورپی رائے عامہ میں سعودی عرب کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جا سکے۔
خلیج فارس تعاون کونسل کی ہم آہنگی کو کمزور کرنا
یہ انکشافات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خلیج فارس تعاون کونسل کی اندرونی ہم آہنگی بحران کا شکار ہے۔ ریاض اور ابوظہبی کے درمیان بڑھتی ہوئی دشمنی، علاقائی اور ماورائے علاقائی اداکاروں کو بھرتی کرکے بیچ میں لانے کی کوشش، اور ہائبرڈ جنگی آلات کو فعال کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس تزویراتی علاقائی تنظیم میں "اجتماعی سلامتی" کا تصور کمزور ہو گیا ہے۔
علاقائی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جب تنازعات میڈیا اور نفسیاتی آپریشنز کے میدان میں منتقل ہو جاتے ہیں تو روایتی سفارتی ذرائع سے ان کا انتظام و انصرام کرنا، مشکل ہو جاتا ہے اور سیاسی اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔
حتمی تجزیہ: ایک خلا جس سے فائدہ صرف اسرائیل کو ہوتا ہے
دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ اختلافات دو طرفہ تنازع سے آگے بڑھ چکے ہیں۔ خلیج فارس کی عرب ریاستوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کا مکمل تعلق اسرائیل کے اسٹراٹیجک مفادات سے ہے۔ عرب ہم آہنگی کی کمزوری اور اہم علاقائی کھلاڑیوں کی شمولیت ایک ایسا ماحول پیدا کرتی ہے جس میں اسرائیل کو براہ راست قیمت ادا کئے بغیر اپنے اہداف کے حصول میں زیادہ سے زیادہ آزادی حاصل ہوگی۔
ان دستاویزات کا افشا صرف میڈیا یا انٹیلی جنس آپریشن کی روداد نہیں، بلکہ یہ عربوں کے درمیان مسابقت کے راستے کے بارے میں ایک انتباہ ہے۔ اس رجحان کا تسلسل خلیج فارس کی سلامتی کے فارمولے کے نئے سرے سے تعین کا باعث بن سکتا ہے، جس کا سب سے زیادہ فائدہ بیرونی اداکاروں بالخصوص اسرائیل کو ہو گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: قبس زعفرانی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ