12 جولائی 2026 - 14:18
امریکی جارحیتوں کے مقابلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے تین فیصلہ اقدامات

اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نے امریکی کی حالیہ جارحیتوں کے ردعمل میں، پچھلے تین دنوں کے دوران متعدد فوجی اقدامات انجام دیئے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکہ کی جانب سے علاقے میں فوجی جارحیتوں میں شدت اور ایران کے قومی مفادات کے خلاف جاری دھمکیوں کے جواب میں، اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نے پچھلے تین دنوں میں تین اسٹراٹیجک اور موثر اقدامات کو اپنے ایجنڈے پر رکھا، جنہوں نے واشنگٹن اور اس کے علاقائی اتحادیوں کو واضح پیغام بھیجا۔

1۔ آبنائے ہرمز کی مکمل بندش اور بحری آمدورفت کی معطلی

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحری افواج نے، خطرات کے خاتمے تک آبنائے ہرمز کی مکمل بندش کا اعلان کرتے ہوئے، اس اہم آبی گذرگاہ میں تمام بحری جہازوں کی آمدورفت کو صفر تک پہنچا دیا۔ یہ اقدام آبنائے ہرمز پر ایران کی مکمل اختیار کے اطلاق کے طور پر، اور امریکہ کی جانب سے بار بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کے جواب میں، کیا گیا ہے۔

اس سے قبل، ایرانی حکام نے واضح طور پر اعلان کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کو صرف ایران کے انتظام کے تحت دوبارہ کھولا جائے گا اور امریکی دھمکیاں اس فیصلے میں کوئی کردار ادا نہیں کرتیں۔

2۔ عرب ممالک میں امریکہ کے 5 اڈوں اور اردن میں 2 اڈوں کی فوجی اور لاجسٹک تنصیبات کو نشانہ بنانا

دوسرے اقدام میں، ایران کی مسلح افواج نے کئی لہروں میں میزائل اور ڈرونز فائر کرکے، علاقے میں امریکہ کے اہم فوجی اور لاجسٹک اہداف کو نشانہ بنایا۔ اس رپورٹ کے مطابق، خلیج فارس کے عرب ممالک (جن میں کویت، بحرین، قطر اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں) میں امریکہ کے 5 فوجی اڈوں کے علاوہ، اردن میں 2 اڈوں کو بھی درست (Accurate) حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ ان حملوں میں کویت میں "پیٹریاٹ" دفاعی نظام، بحرین میں امریکی فوج کے ایندھن کی تنصیبات، اور اردن میں "شہزادہ حسن" ایئر بیس شامل تھے۔ بعض رپورٹوں کے مطابق، اردن کے اڈے کا کمانڈ سنٹر اور "ایم کیو-9" ڈرونز کے ہینگرز ان حملوں میں تباہ کر دیئے گئے ہیں۔

3۔ آبنائے ہرمز میں دو متجاوز جہازوں کو نشانہ بنانا

تیسرے اقدام میں، آبنائے ہرمز کے پانیوں میں خلاف ورزی کرکے غیر قانونی روٹ سے گذرنے کی کوشش کرنے والے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، جنہوں نے قوانین کی خلاف ورزی اور غیر مجاز راستے کی طرف رخ کرکے بحری آمدورفت کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔ سپاہ پاسداران نے بار بار وارننگ جاری کرنے کے بعد، ان جہازوں کی جانب فائرنگ کی، جس سے ایک جہاز کے انجن کو شدید نقصان پہنچا اور اسے رکنا پڑا۔ اخباری ذرائع کے مطابق، ان جہازوں کو نشانہ بنانے کا عمل اس اہم آبی گذرگاہ میں محفوظ آمدورفت کے لئے ایران کی جانب سے طے کردہ انتظامات کے ساتھ ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دینے کے سلسلے میں کیا گیا ہے۔

یہ فیصلہ کن اقدامات، جو امریکہ کی جانب سے ایران کے دفاعی اور غیر فوجی تنصیبات پر حالیہ فضائی حملوں کے جواب میں کئے گئے ہیں، اسلامی جمہوریہ ایران کی اپنی سرزمین کی سالمیت اور قومی سلامتی کے دفاع اور کسی بھی بیرونی جارحیت کو سخت جواب دینے کے عزم کی نشاندہی کرتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha