اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صہیونی پارلیمنٹ (کنیسٹ) نے منگل کی شب 58 کے مقابلے میں 54 ووٹوں سے اس قانون کی دوسری اور تیسری قرأت منظور کر لی، جس کے تحت لازمی فوجی خدمت سے انکار کرنے والے حریدی یہودیوں کی گرفتاری اور ان کے خلاف قانونی کارروائی عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہے۔
شارین ہاسکل، جنہوں نے ووٹنگ سے قبل لیکود پارٹی کے دو دیگر ارکان کے ساتھ اس بل کی مخالفت کی تھی، قانون کی منظوری کے فوری بعد نائب وزیر خارجہ کے عہدے سے مستعفی ہو گئیں۔
انہوں نے اپنے استعفے میں کہا کہ یہ قانون صہیونی فوج کے مفادات اور حکومت کی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہے، اس لیے اس کی منظوری کے بعد وہ مزید حکومت کا حصہ نہیں رہ سکتیں۔ تاہم صہیونی حکومت نے تاحال اس استعفے پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔
قانون کے مطابق، حریدی یہودیوں کی فوج میں بھرتی کا عمل کم از کم سات ماہ کے لیے معطل رہے گا، جبکہ لازمی فوجی خدمت سے انکار کرنے والوں کے خلاف جاری عدالتی کارروائیاں بھی روک دی جائیں گی۔
یہ قانون ایسے وقت میں منظور کیا گیا ہے جب اپوزیشن جماعتوں نے اسے صہیونی سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے اس کی منسوخی کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب حریدی جماعتوں نے حکمران اتحاد کی حمایت کو دینی مدارس کے طلبہ کو لازمی فوجی خدمت سے مستقل استثنا دینے سے متعلق قانون سازی سے مشروط کر رکھا ہے۔
آپ کا تبصرہ