11 جولائی 2026 - 23:30
ایران آج طاقتور ہے اور اپنی طاقت کا لوہا منوا رہا ہے، عبدالباری عطوان

مشہور عرب مصنف، صحافی اور سیاسی تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے کہا: ہم نے لاکھوں افراد کو دیکھا جو رات دن سڑکوں پر موجود تھے، رو رہے تھے اور اپنے رہبر کے جنازے میں شرکت کر رہے تھے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ مشہور عرب مصنف، صحافی اور سیاسی تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے ذیل کی ویڈیو میں کہا ہے: شہید سید علی خامنہ‌ای جو اپنے خاندان کے ساتھ شہید ہوئے، ان لوگوں میں سے نہیں تھے کہ لوگوں کے بچوں کو میدان میں بھیجتے، وہ وہ شہید ہوجائیں اور خود محلات میں بیٹھے رہیں؛ نہیں، وہ جنگ کے مرکز میں تھے۔ یہی شائستہ اور بہادرانہ قیادت ہے؛ محل کی کوئی بات نہیں تھی، وہ ایک معمولی گھر میں رہتے تھے اور اسی جگہ شہید ہوئے اور کبھی فرار نہیں ہوئے۔

اگر آپ غور کرکے دیکھیں تو رہبر شہید کی تشییع اور ملکی نظام کے خلاف اندرون و بیرون ملک کوئی احتجاج نہیں ہؤا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایرانی عوام اور نظام حکومت سے ناراضگی کی تمام تر خبریں جھوٹی ہیں، یہ سب امریکہ اور اسرائیل کی جعل سازیاں اور مکاریاں ہیں۔

حقیقت کچھ اور ہے؛ ہم نے کروڑوں لوگوں کو دیکھا جو شب و روز سڑکوں پر موجود ہیں اور گریہ و بکا کر رہے ہیں اور اپنے عظیم قائد کی تشییع میں شرکت کر رہے ہیں۔

سید شہید علی خامنہ ای، جو اپنے اہل خانہ کے ساتھ، جام شہادت نوش کر گئے۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ لوگوں کے بچوں کو میدان میں بھیجتے کہ جاکر شہید ہوجائیں اور وہ خود محل میں بیٹھیں؛ ہرگز نہیں، وہ میدان جنگ کے بیچ کھڑے تھے۔

یہ وہی شائستہ، لائق اور بہادر قیادت ہے؛ کوئی قصر و محل نہیں تھا، وہ ایک معمولی سے گھر میں رہائش پذیر تھے اور اسی مقام پر شہید ہو گئے اور کبھی بھی فرار نہیں ہوئے۔

یہ وہی عظیم انسان تھے جنہوں نے جدید اسلامی جمہوریہ ایران اور اسلامی انقلاب کی بنیادوں کو پہلے سے زیادہ مضبوط کر دیا؛ جوہری پروگرام، میزائل ٹیکنالوجی، اقتصادی ترقی اور سائنسی ترقی کے ذریعے ایران کو تقویت، عزت و عظمت اور وقار و کرامت دی، اور اس کو ایک بڑی طاقت میں تبدیل کر دیا۔ اور ان سب سے زیادہ اہم یہ کہ انھوں نے امریکہ اور اسرائیل کو شکست دی، اور یہ عظیم مرد ابتدائی دن سے ہی فلسطینی کاز کے حامی تھے۔

تاسیس کا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے، اور اب بڑی طاقت کی تعمیر کا مرحلہ شروع ہو چکا ہے۔ بڑے ایران امت کے ایران اور ایرانی سلطنت کا دور آن پہنچا ہے۔

اب ہم طاقت کا مظاہرہ دیکھ رہے ہیں؛ ایران شہید کی تشییع میں یہ کروڑوں انسانوں کی موجودگی سے معلوم ہوتا ہے کہ ایران میں قومی یکجہتی پائی جاتی ہے۔

ایران کے حقیقی عوام، حتی اگر نظام کے ساتھ اختلاف بھی رکھتے ہوں، وہ قومی یکجہتی سے اختلاف نہیں رکھتے، اختلافات کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں۔

ایرانی عوام امریکہ اور اسرائیل کے کندھوں سے کندھا لگا کر کھڑے نہیں ہوتا، گوکہ کچھ لوگ مسثنیٰ ہیں جو بہت کم ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha