امریکی سینیٹر کرس کونز کا کہنا ہے کہ ایران نے جنگ کے دوران اپنی عسکری صلاحیتوں کا مؤثر مظاہرہ کیا، جبکہ آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی توانائی منڈی بھی شدید متاثر ہوئی۔
برطانوی روزنامہ گارڈین کے مطابق ایران کے خلاف جنگ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی، جبکہ اس کے جغرافیائی، سیاسی اور معاشی اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سابق افسر اور تجزیہ کار لیری جانسن نے امریکی حکومت کی خارجہ پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگی پالیسی نے امریکی عوام کو فائدہ پہنچانے کے بجائے ان پر معاشی بوجھ بڑھا دیا ہے۔
ٹرمپ کے پاس نکلنے کا ایک راستہ تھا۔ اس نے بڑی آسانی سے پسپائی اختیار کی اور اسی ایرانی 10 نکاتی منصوبے کو تسلیم کر لیا او اس کو امریکہ کے لئے ایک عظیم تزویراتی فتح کے طور پر پیش کیا۔
مشہور امریکی میڈیا کارکن "اووین جونز نے لکھا ذرہ برابر بھی شک نہ کرو کہ یہ بڑی طاقت کے طور پر ظہورپذیر ہونے کے بعد امریکہ کی عظیم ترین تزویراتی شکست ہے۔"
اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل نے اپنے بیان میں کہا: شہید رہبر انقلاب کے خون کی برکت، مسلح افواج کے معظم کمانڈر انچیف کی تدبیر و انتظام اور میدان میں عزیز ملت کی موجودگی کے بموجب، ایک عظیم فتح حاصل ہوئی اور اس قوم نے جرائم پیشہ امریکہ کو ایران کا 10 نکاتی منصوبہ قبول کرنے پر مجبور کیا۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کسی بھی ممکنہ جنگ بندی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی درحقیقت دشمن کو دوبارہ طاقت جمع کرنے اور نئے حملوں کی تیاری کا موقع فراہم کرتی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اعتراف کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال میں واشنگٹن یکطرفہ طور پر یہ آبی گزرگاہ کھولنے کی پوزیشن میں نہیں ہے اور اس کا انحصار براہ راست ایران کے فیصلے پر ہے۔