بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا | مؤمنین "اس عظیم مصیبت میں سر و سینہ پیٹتے ہیں، لیکن ہمیں اس بے چینی اور اشک و آہ کے بیچ خود سے پوچھنا چاہئے:
یہ داغ جو ہمارے دلوں میں تازہ ہے اور ٹھنڈا نہیں ہوتا، ہمیں کس راستے کی طرف بلا رہا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ عاشورا ہمارے لئے ماضی بعید میں ختم ہونے والا کوئی توقّف گاہ نہیں؛ بلکہ اصل چشمہ اور سہارا ہے جو ہمیں حضرت ولی عصر (عَجَّلَ اللہُ فَرَجَہُ الشَّریف) کے ظہور پر نور تک پہنچا دیتا ہے۔
حصۂ دوئم:
یہی خدا کا ناقابل تغیّر قانون ہے؛ حق انجام تک نہیں پہنچتا مگر میدانِ کارزار میں ہماری موجودگی کے ساتھ۔۔ ظہور، دراصل کربلا کے اسی راستے کا امتداد ہے اور ظہور کے دن کے ساتھیوں کو، حضرت ابا عبداللہ الحسین (علیہ السلام) کے عاشورا کے دن کے ساتھیوں کی طرح، حوادث و وقائع کی بھٹی میں پختہ ہؤا ہونا چاہئے۔
اس گہرے ربط کو ہمارے دشمنوں نے بھی سمجھ لیا ہے۔ مغربی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ شیعہ کی طاقت دو پروں "سرخ عاشورا" اور "سبز انتظار" سے اڑتی ہے۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر وہ مجالسِ عزا سے حماسہ، بہادری اور ایثار کی روح نکال دیں، تو یہ ایک بےضرر سی رسم و عادت بن جائیں گی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ عاشورا سن 61 ہجری میں ختم نہیں ہؤا؛ عاشورا ہر روز ہماری زندگی کے دوراہوں پر دہرایا جاتا ہے۔
جب ہم تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں تو ایک تلخ اعداد و شمار ہمارے سامنے ہے:
امام حسینؑ کو ۱۲ ہزار خط بھیجے گئے، لیکن روزِ واقعہ صرف 72 افراد باقی رہے۔
"بشر بن غالب" نے کیا خوب اس دن کے نفاق و ریاکاری کو بیان کیا ہے؛ کہ بہت سے لوگوں کے لئے دین محض لقلقۂ لسانی تھا اور جب تک ان کی سلامتی، مفادات اور لذتوں کا معاملہ درمیان میں نہیں آتا تھا، وہ حق اور اپنے امام کی نصرت کی باتیں کرتے تھے۔ لیکن
- ایک نے روٹی اور نام اور "رے کی گندم" کی طمع میں خود کو بیچ ڈالا؛
- ایک نے دھمکی اور عدم تحفظ کے ڈر سے، اپنے گھر کا دروازہ حق پر بند کر دیا اور میدانِ جہاد سے پیچھے ہٹ گیا؛
- ایک نے اپنا دل اس قدر دنیا اور مال پرستی میں الجھا دیا کہ اپنے زمانے کے امام زمان کی فریاد سنی ہی نہیں۔
کربلا کا قصہ صرف سن 61 ہجری کے انسانوں کا قصہ نہیں؛ بلکہ یہ ہر اس وقت کا قصہ ہے جب انسان حق اور منافع، حقیقت اور لذت و آسائش، وفاداری اور عافیت کے درمیان انتخاب کرتا ہے۔ اس دن بہت سے لوگوں نے دنیاوی حسابات سے خود کو قائل کر لیا کہ یہ بالکل ہو سکتا ہے کہ حق کی پہچان کے باوجود، نصرت حق کے لمحے میں حق سے علیحدگی اختیار کی جائے؛ لیکن تاریخ نے ثابت کیا کہ یہی علیحدگی اور آلودہ مصلحت اندیشی، وہی نقطہ جو انسان کو باطل کی صف میں، اور ولی خدا کے قاتلوں کے ساتھ کھڑا کر دیتا ہے۔
آج بھی منظر نہیں بدلا؛ صرف چہرے بدلے ہیں۔
آج کا یزید اور شمر، اب اُسی نام سے اور کل ہی والے لباس میں ملبوس ہوکر، میدان میں نہیں ہیں، لیکن ان کی منطق وہی منطق ہے:
میناب شہر کے پرائمری اسکول "شجرہ طیبہ" کے مظلوم بچوں اور بچیوں اور پوری دنیا میں ہزاروں معصوم بچوں کا قتل، غزاویوں کی طرح کے بے گناہ لوگوں پر پابندیاں اور محاصرہ، بےپناہ مظلوموں پر بمباری، الٰہی احکام کی توہین اور بےاعتنائی، انسانوں کو گمراہ کرنے کے لئے تشہیری سلطنت اور پروپیگنڈا مشینری کا بے تحاشا استعمال، اور عالمی ضمیروں کو خاموشی اختیار کرنے پر مجبور کرنا۔
جب مجرم امریکہ، عالمی استکبار اور غاصب اور وحشی طفل کُش صہیونی ریاست، بےباکی سے مکمل استثنیٰ کے ساتھ جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں اور دنیا اپنی آنکھوں سے بچوں کی ننھی ننھی لاشیں، ماؤں کے آنسو، اور گھروں اور اسکولوں کی تباہی دیکھ رہی ہے، تو شک کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: احمد شرف خانی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ