29 مئی 2026 - 15:44
حصۂ اول | خلیج فارس مغرب سے پاک؛  پانچ صدیوں کے بعد / عمان پر ٹرمپی غصے کے پس پردہ عوامل

عمان پر ٹرمپ کا غصہ اور اس ملک کو بمباری کی دھمکی صاف ظاہر کرتی ہے کہ خطے کی مساواتوں میں بہت زیادہ تبدیلی آئی ہے اور امریکہ ـ خاص طور پر خلیج فارس میں ـ مزید یک قطبی طاقت  نہیں رہا اور نہ ہی اسے کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکہ کی طرف سے عمان کو سخت دھمکی میں اہم اور بنیادی نکات پوشیدہ ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست ہائے متحدہ نے خلیج فارس میں اپنی بالادستی اس حد تک کھو دی ہے کہ وہ ایک ایسے ملک (عمان) کو بمباری کی دھمکی دینے کی طرف بڑھ رہا ہے جو خود اس کا دوست اور ہمراہ رہا ہے، اور یہ بھی ایران کے اس بحری نظام اور انتظام کے خلاف ہے جو ایران نے رمضان کی مسلط کردہ جنگ کے بعد نافذ کیا ہے۔

امریکہ ان دنوں امریکہ عرب ممالک سے طرح طرح کی دھمکیوں سے مخاطب ہو رہا ہے۔ خطے کے عرب ممالک کو ابراہیم معاہدے میں شامل ہونے کے لئے دباؤ بھی ان ہی دھمکیوں میں سے ایک ہے۔

خلیج فارس میں ایران کی بحری ترتیب کے سلسلے میں ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں جہازرانی کے انتظام کے لئے نئے طریقہ کار پر بات چیت کی خبریں شائع ہوئی ہیں۔

اسی سلسلے میں ایران کے قومی سلامتی کے اعلیٰ کونسل کے سکریٹری کے نائب، "ڈاکٹر علی باقری کنی" نے اعلان کیا کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازوں کی آمدورفت کو منظم اور کنٹرول کرنے کے لئے ایک نئے طریقہ کار پر بابمی مشاورت کر رہے ہیں۔

ان ہی مشاورتوں کے نتیجے میں عمان کے خلاف امریکہ کی دھمکیاں آنا شروع ہوئیں اور یہ دھمکیاں شدت اختیار کر گئیں۔

ٹرمپ نے ایک دعوے میں کہا: "آبنائے سب کھلے رہیں گے اور کسی کے کنٹرول میں نہیں ہوں گے۔ ہم ان کی نگرانی کریں گے! عمان باقی [امریکہ نواز] ممالک کی طرح برتاؤ کرے گا، ورنہ ہم اسے دھماکے سے اڑا دیں گے!"

اس کے بعد ہی [بدنام زمانہ عالمی اقتصادی دہشت گرد] امریکی وزیر خزانہ نے کہا: "امریکہ کی حکومت آبنائے ہرمز میں محصول (ٹول) کا نظام نافذ کرنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کرے گی؛ خاص طور پر عمان کو معلوم ہونا چاہئے کہ امریکی محکمہ خزانہ جارحانہ طریقے سے ہر اس عنصر کو نشانہ بنائے گا جو اس آبنائے میں محاصل کی وصولی کے لئے سہولت فراہم کرنے میں کردار ادا کرے، اور کوئی بھی [امریکی] پارٹنر جو اس کی خواہش رکھتا ہو، جرمانے کی زد میں آئے گا۔"

یہی فوجی اور معاشی دھمکیاں پہلی ہی نظر میں، آشکار کر رہی ہیں کہ امریکہ خلیج فارس میں اب کوئی طاقت نہیں رکھتا اور سخت دھمکیوں کے ذریعے اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ [امریکہ اور اس کے صدر اور وزیر خزانہ کی بدقسمتی یہ ہے کہ کہ عمان سمیت تمام ممالک ان امریکی بے بسیوں سے واقف ہیں۔]

یہ واقعات اس آبنائے ہرمز میں امریکی طاقت کے زوال کی داستانیں ہیں جس کی سیادت اور انتظام ایران کے ہاتھ میں ہے اور یہ انتظام مہینوں سے جاری ہے۔

عمان کو ـ جو ایک غیر جانبدار، امریکہ کے دوست اور ہمراہ ملک ہونے کے باوجود ـ امریکی دھمکیاں بہت سے لوگوں کے لئے حیرت کا باعث تھیں۔ اور چک شومر جیسے امریکی کانگریس کے افراد نے تک نے بھی کہا کہ "ٹرمپ کی طرف سے، عمان کو دھمکی دینے کا مطلب یہ ہے کہ جنگ کا کنٹرول اس کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔"

امریکہ کا حتیٰ کہ اپنے مقاصد کے لئے دوست ممالک کو بھی دھمکی دینا ٹرمپ کے غصے کے قابلِ غور پہلوؤں میں سے ایک تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: امیر حمزہ نژاد

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

حصۂ اول | خلیج فارس مغرب سے پاک؛  پانچ صدیوں کے بعد / عمان پر ٹرمپی غصے کے پس پردہ عوامل

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha