13 جولائی 2026 - 23:16
ایران نے خطے میں امریکہ کی نگران آنکھوں پر کاری ضرب لگائی 

آج صبح سویرے، اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نے ایک دقیق آپریشن کے ذریعے عمان اور کویت میں امریکی فوج کے اڈوں پر موجود دو جدید FPS ریڈاروں کو تباہ کر دیا، اور ایران کے میزائل حملوں کے مقابلے میں امریکیوں کی ابتدائی وارننگ کی صلاحیت کو بہت حد تک کمزور کر دیا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے جارح امریکی رجیم کی جارحیتوں کے جواب میں کامیاب کاروائیوں کے امتداد میں آج صبح سویرے اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نے خطے کی ریاستوں میں قابض امریکی افواج کے نگرانی کے بنیادی ڈھانچے پر مؤثر ضرب لگائی اور عمان اور کویت میں اس ملک کے اڈوں پر دو کلیدی FPS ریڈاروں کو نشانہ بنایا اور مکمل طور پر تباہ کر دیا۔

FPS ریڈار، خاص طور پر FPS-117 اور FPS-132 ماڈل، ابتدائی وارننگ اور طویل فاصلے کی فضائی سراغ رسانی کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ اس خطے میں، FPS-132 خاص اہمیت رکھتا ہے؛ کیونکہ اس کا بنیادی مشن میزائل حملوں کے بارے میں ابتدائی وارننگ دینا ہے اور یہ امریکی دفاعی نظاموں کو فعال کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ایران اس سے قبل بھی حالیہ جنگ کے دوران قطر میں ان میں سے ایک ریڈار کو نشانہ بنا چکا ہے؛ جس کی تباہی کی تصاویر جنگ بندی کے بعد جاری ہوئی تھیں۔

ان ریڈاروں کی تباہی کا مطلب خطے میں امریکی نگرانی کی آنکھ کی نابینائی اور میزائل حملوں کا مقابلہ کرنے کی اس کی صلاحیت کی کمزوری ہے۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے شعبۂ تعلقات عامہ کے اعلان کے مطابق، یہ آپریشن انتقامی آپریشن کے متعدد مراحل کے فریم ورک میں کیا گیا ہے اور اس میں عمان میں تعینات طویل فاصلے پر فضائی نگرانی کرنے والے ریڈار FPS اور بحری کاروائیوں کا کھوج لگانے والے ریڈار کی تباہی بھی شامل تھی۔

فوجی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ان جدید ریڈاروں کا خاتمہ، جو خلیج فارس میں مربوط امریکی ڈیٹیکشن نیٹ ورک کا حصہ ہیں، معلومات اور ابتدائی وارننگ میں سنگین خلا پیدا کرتا ہے اور خطے میں امریکی اڈوں کے درمیان ہم آہنگی کو درہم برہم کر دیتا ہے۔ یہ ریڈار طویل فاصلے پر بیلسٹک میزائلوں کو ٹریک کرنے کی صلاحیت کے ساتھ، مغربی ایشیا میں واشنگٹن کے فضائی اور میزائل دفاع کی ریڑھ کی ہڈی تھے۔

ایرانی مسلح افواج کی یہ درست و دقیق کاروائی امریکی ریاستی دہشت گردی کے حامیوں کو واضح پیغام دیتی ہے کہ ان کسی بھی نئی مہم جوئی کو فیصلہ کن اور زیرکانہ جوابات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسلامی جمہوریہ ایران بارہا اس بات پر زور دے چکا ہے کہ وہ ہر خطرے کے سامنے اپنی تمام دفاعی اور جارحانہ صلاحیتوں کو قومی مفادات اور علاقائی سلامتی کے تحفظ کے لئے بروئے کار لائے گا اور یہ آپریشن اسی تسدیدی حکمت عملی (ڈیٹرنس اسٹراٹیجی) کا حصہ ہیں۔

اب تک امریکی ذرائع اور بعض میزبان ممالک نے خاموشی اختیار کی ہے جو خود اس ضرب کی گہرائی اور زبردست اثرات کا مظہر ہے۔ یہ کامیابی ایک بار پھر دفاع اور اسٹراٹیجک اہداف کو نشانہ بنانے کے میدان میں ایران کی مقامی صلاحیتوں کی برتری کو نمایاں کرتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha