بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ یمن کی مسلح افواج کے ترجمان، بریگیڈیئر یحییٰ سریع نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب نے یمنی عوام کے خلاف ظالمانہ ناکہ بندی کے تسلسل میں آج پیر کو صنعاء بین الاقوامی ہوائی اڈے کو کئی بار بمباری کا نشانہ بنایا تاکہ اسے مریضوں اور مسافروں کی منتقلی کے لئے ہونے والی انسانی پروازوں کے لئے بند کیا جا سکے، مسلح افواج نے ان جنگی طیاروں اور اس بزدلانہ اور مجرمانہ حملے سے نمٹنے کی کوشش کی۔

بریگیڈیئر سریع نے واضح کیا کہ سعودی عرب کی اس مجرمانہ جارحیت کے جواب میں، یمنی مسلح افواج نے ایک فوجی آپریشن میں ابھا بین الاقوامی ہوائی اڈے اور ملک خالد ہوائی اڈے کو متعدد بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا نشانہ بنایا اور یہ آپریشن اللہ کے فضل سے اپنے اہداف تک پہنچ گیا۔
انھوں نے مزید کہا کہ سعودی دشمن اس غیر سنجیدہ فیصلے اور صنعاء بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ظالمانہ حملے اور اس بے عقلی پر مبنی جارحیت کے سنگین نتائج کی مکمل ذمہ داری سعودی دشمن پر عائد ہوتی ہے اور یہ جارحیت صہیونی اور امریکی دشمن کے مفاد میں ہے۔
بریگیڈیئر سریع نے تاکید کی کہ یمنی مسلح افواج جارحیتوں سے نمٹنے اور اپنے ملک سے ظالمانہ ناکہ بندی ختم کرنے کے لئے اپنے برحق موقف پر جم کر کھڑے اور پرعزم ہیں اور اسی سلسلے میں وہ تمام سول ایوی ایشن کمپنیوں کو سعودی عرب کی فضا سے گذرنے کے بارے میں خبردار کرتے ہیں اور جب تک کہ صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی ناکہ بندی ختم نہیں ہو جاتی، ان کمپنیوں کو یہ انتباہ پیش نظر رکھنا ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ یمنی حکومتی ذمہ داران اور عوام صنعاء بین الاقوامی ہوائی اڈے کی ظالمانہ ناکہ بندی ختم کرنے اور اس ہوائی اڈے پر انسانی پروازیں انجام دینے پر، اسلامی جمہوریہ ایران کی مدد و حمایت کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔
یمنی مسلح افواج کے ترجمان نے صنعاء اور دیگر صوبوں میں فوج کی حمایت میں اجتماعات میں شرکت کرنے والے یمنیوں کی وسیع مظاہروں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یمن جارحیتوں اور ناکہ بندی کے تسلسل کو قبول نہیں کرے گا اور فوج ضروری اور تسدیدی اقدامات کرکے ناکہ بندی ختم کرنے کے لئے اعلی ترین سطح پر تیار ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ