25 مئی 2026 - 21:54
ایران امریکہ اور اسرائیل کو ذلیل کرنے میں کامیاب رہا، سیکرٹری جنرل حزب اللہ

حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے واضح کیا کہ • اسلامی جموریہ ایران نے آیت اللہ العظمیٰ امام سید مجتبیٰ خامنہ ای (حفظہ اللہ) کی قیادت میں امریکہ اور اسرائیل کو ذلت کا مزہ چکھا دیا۔ / ہم عنقریب، اللہ کی مشیت سے، تیسری آزادی کا اعلان کریں گے۔/ منامہ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مذہبی و سیاسی عقائد کی بنیاد پر گرفتار علماء اور شہریوں کو رہا کر دے۔ / ہم حق کا پرچم اٹھائے رہیں گے یہاں تک کہ اسے امام مہدی (عَجَّلَ اللہُ تَعَالی فَرَجَہُ الشَّرِیفَ) کے سپرد کر دیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل، شیخ نعیم قاسم نے "مقاومت اور آزادی" کی عید کے موقع پر ایک تقریر میں مسلمانوں کو عید الضحیٰ کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس تقریر میں وہ مزاحمت، سرزمینِ لبنان کی آزادی، ایران، بحرین اور فلسطین کے بارے میں بات کریں گے۔

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے کہا:

• جن جن لوگوں نے مقاومت (مزاحمت) میں کردار ادا کیا، وہ حاصل ہونے والی فتح میں شریک تھے، مقاومت اور فتح شہید سید حسن نصر اللہ کی قیادت اور مقاومت، فوج اور عوام کی یکجہتی کا نتیجہ تھی۔

• حکومت اور مزاحمت کے درمیان ہم آہنگی نے مقبوضہ علاقوں کی آزادی میں مؤثر اور اہم کردار ادا کیا ہے۔

• ہمیں ذہن نشین کر لینا چاہئے کہ یہ مقاومت کی ضربیں تھیں جنہوں نے سنہ 2000ع‍ میں صہیونی قابضوں کو لبنان کی مقبوضہ سرحدی علاقے سے انخلا پر مجبور کیا۔

• 17 مئی کا ذلت آمیز معاہدہ کبھی بھی نافذ نہ ہو سکا اور سنہ 1984ع‍ میں منسوخ کر دیا گیا، یہ اس آزادی کی راہ میں ایک قدم تھا جو سنہ 2000ع‍ میں حاصل ہوئی۔

• 27 نومبر 2024 عیسوی کو لبنان کی حکومت نے ایک بالواسطہ معاہدہ کیا جس کے ذریعے قبضے کا خاتمہ اور جارحانہ حملوں کو روکنا تھا، جو ہرگز نافذ نہ ہو سکا اور دشمن کی جارحیت جاری رہی۔

• معاہدے کے بعد 15 ماہ تک اسرائیل کے حملے جاری رہے جبکہ لبنان کی حکومت اسے نافذ کرنے سے قاصر تھی، ہم حکومت سے یہ نہیں کہتے کہ وہ امریکی-اسرائیلی منصوبے کا مقابلہ کرے لیکن کم از کم دشمنوں کے عزائم پورا کرنے میں سہولت کار اور آلہ کار نہ بنے۔

• لبنان کی حکومت نے دشمن کو مسلسل رعایتیں دیں اور کوئی رعایت حاصل نہ کی، یہاں تک کہ 2 مارچ سنہ 2026ع‍ کو ایک قانون منظور کر دیا اور جارح دشمن کے خلاف مزاحمت کو جرم قرار دے دیا!!

• میں لبنانی حکومت سے کہتا ہوں کہ مقاومت کی مخالفت اور دشمنوں کے ساتھ ملی بھگت کے اپنے فیصلوں سے پیچھے ہٹے اور عوام کے ساتھ کھڑی ہو جائے۔

• اسرائیل کا منصوبہ مقاومت کو تباہ کرنا ہے تاکہ لبنان پر بتدریج قبضہ کر سکے۔

• حزب اللہ پر امریکہ کی حالیہ پابندیاں دباؤ ڈالنے کے لئے لگائی گئیں اور یہ واشنگٹن کے مقاصد حصول میں امریکیوں کے عجز اور بے بسی کو عیاں کرتی ہیں۔

• امریکہ کی پابندیاں ہمیں کمزور نہیں کرتیں اور اگر وہ زیادہ جارحانہ رویہ اختیار کرتا ہے تو لبنان میں اس کے لئے کچھ بھی باقی نہیں رہے گا اور اس کے افراد اور مراکز محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔

• حزب اللہ اور مقاومت کے ترک اسلحہ کا مطلب لبنان کی دفاعی صلاحیتوں سے محرومی اور اس ملک میں قبضے اور اس کے عوام کی نسل کشی کی راہ ہموار کرنا ہے اور یہ ہمارے لئے ناقابل قبول ہے۔

• باعث حیرت ہے کہ لبنانی حکام ہم سے کہتے ہیں: "آؤ ہماری مدد کرو تاکہ ہم تمہیں نہتا کر سکیں، پھر اسرائیل داخل ہو سکے، تمہیں مار ڈالے اور تمہارے لوگوں کو بے گھر کر دے"؛ جبکہ، لبنانی حکام ملکی سالمیت اور خود مختاری کے تحفظ کے ذمہ دار ہیں!

• کیا لبنانی حکام اس سلسلے میں ملکی آئین کے مسلّمہ اصولوں کے پابند ہیں؟

• ہم تجاوزات کے خاتمے، اسرائیل کی مکمل پسپائی، قیدیوں کی رہائی اور جنوبی لبنان کے باشندوں کی اپنے علاقوں میں واپسی کے خواہاں ہیں، اس کے بعد ہی دفاعی حکمت عملی پر بات کریں گے۔

• لبنان کی حکومت اپنے لوگوں اور ملک کا دفاع کرنے سے قاصر ہے؛ چنانچہ اسلحہ اس وقت تک ہمارے ہاتھوں میں رہے گا جب تک لبنان کی حکومت اپنے فرائض اور ذمہ داریاں نبھانے کی صلاحیت حاصل نہیں کر لیتی۔

• آج مقاومت جو کچھ بھی کر رہی ہے، وہ مضبوط اور آزاد لبنان کی بقاء اور وجود کے تحفظ کے لئے ہے اور جنوبی لبنان کے واقعات اسرائیل کے زوال اور تباہی کا آغاز ہیں۔

• مقاومت لبنان کی سرزمین، عوام، غیرت اور عزت کا دفاع کرتی ہے اور جو کوئی بھی اسرائیل کے ساتھ مل کر ہمارے مقابلے پر آئے گا، ہم اس سے نمٹ لیں گے اور اسلحہ ہمارے ہاتھوں میں باقی رہے گا۔

• اسرائیل جنوبی لبنان میں حقیقی جانی و مالی نقصان اٹھا رہا ہے اور نقصانات اور جانی نقصان کے اعداد و شمار کو سنسر کرتا ہے، اور میدان میں شکست کھا کر، لبنان کے شہریوں اور ان کے گھروں کو نشانہ بناتا ہے۔

• اس مرحلے میں، اسلحے پر حکومت کی اجارہ داری، اسرائیلی منصوبہ ہے اور لبنانی حکومت کو اس منصوبے سے پیچھے ہٹنا چاہئے۔

• مزاحمت کے ڈرون جنوبی لبنان اور شمالی مقبوضہ فلسطین میں اسرائیلی دشمن کے فوجیوں کا تعاقب جاری رکھے ہوئے ہیں۔

• اب لبنان میں کوئی سیاسی خودمختاری موجود نہیں ہے بلکہ یہ ملک عملاً امریکہ کے زیر سرپرستی ہے۔

• اب جبکہ لبنان کی حکومت ملک کی خودمختاری برقرار رکھنے سے بے بس اور عاجز ہے، اسے استعفیٰ دے دینا چاہئے۔

• براہ راست مذاکرات نامنظور اور نامقبول اور اسرائیل کو مکمل رعایتیں دینے کے مترادف ہیں۔ ان مذاکرات کو چھوڑ دو اور جو امریکہ چاہتا ہے وہ اسے مت دو اور قومی مفاہمت کی طرف لوٹو کیونکہ مذاکرات سے تم کہیں نہیں پہنچ نہیں پاؤ گے۔

• ہماری حیات اور وجود کو خطرہ لاحق ہے اور جو بھی قربانیاں دی جا رہی ہیں وہ مستقبل کی تعمیر کے لئے ہیں کیونکہ ہم آزاد اور سربلند زندگی گذارنا چاہتے ہیں، غلامانہ اور ذلیلانہ نہیں۔

• اسرائیل یہ سب قتل و غارت اور تباہ کاری ہمیں جھکانے کی غرض سے کر رہا ہے لیکن مقاومت میدان میں کھڑی رہے گی اور اس جنگ سے سرخرو ہو کر عہدہ برآ ہوگی اور گھر دوبارہ تعمیر ہوں گے اور لوگ اپنے علاقوں میں واپس آئیں گے۔

• حتیٰ اگر پوری دنیا ہمارے خلاف ہوجائے، ہم گھٹنے نہیں ٹیکیں گے اور سب سمجھ لیں گے کہ میدان کے آقا ہم ہیں اور جنگ جیت کر میدان سے نکلیں گے۔ ہمارے سر بلند ہیں اوردشمن شکست خورد دشمن نکل کر چلا جائے گا۔ ہم اسرائیلی دشمن کو شکست دیں گے، اور عنقریب، اللہ کی مشیت سے، تیسری آزادی کا اعلان کریں گے۔

• "القرض الحسن" فاؤنڈیشن ایک آزاد اور غیر سرکاری سماجی اقدام ہے، جس پر دشمن حملہ آور ہو رہا ہے اور اس ادارے پر حملہ درحقیقت غریبوں اور کم آمدنی والے لوگوں پر حملہ ہے، لہٰذا عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ملکی اداروں کے خلاف اور امریکی-اسرائیلی منصوبے کا مقابلہ کرنے کے لئے سڑکوں پر آئیں اور ناکارہ حکومت کا تختہ الٹ دیں۔

• مقاومت نے اسرائیلی دشمن کو خوار و ذلیل کر دیا، اور مزاحمت کے فتح مند جنگجو اسرائیلی دشمن کے افسانے کو توڑ کر رکھ دیں گے۔

• فلسطینی، مقاومت کا قبلہ نما رہے گا؛ ہم فلسطین کے حامی اور پشت پناہ رہیں گے اور جو کچھ اسرائیل وہاں کر رہا ہے، وہ جاری نہیں رہ پائے گا۔

ایران امریکہ اور اسرائیل کو ذلیل کرنے میں کامیاب رہا، سیکرٹری جنرل حزب اللہ

* اسلامی جمہوریہ ایران

• اسلامی جموریہ ایران نے آیت اللہ العظمیٰ امام سید مجتبیٰ خامنہ ای (حفظہ اللہ) کی قیادت میں امریکہ اور اسرائیل کو ذلت کا مزہ چکھا دیا۔

• ایران اس جنگ سے سربلند ہو کر نکلے گا اور ایک منفرد طاقت بن جائے گا جس کا بین الاقوامی مقام ہو گا اور جو آزاد دنیا کا ملجأ اور پناہ گاہ ہو گا۔

• ہمیں امید ہے کہ دشمنی پر مبنی اقدامات کے خاتمے کا معاہدہ مکمل طور پر حاصل ہو جائے گا اور یہ معاہدہ لبنان پر بھی مشتمل ہو گا۔

* بحرین:

• ہم منامہ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مذہبی و سیاسی عقائد کی بنیاد پر گرفتار علماء اور شہریوں کو رہا کر دے۔

• بحرینی رجیم نے 41 علماء اور مفکرین کو گرفتار کر لیا ہے، اور ہم ان کی آزادی کے خواہاں ہیں کیونکہ ظلم ہمیشہ باقی نہیں رہتا اور مٹ جاتا ہے۔

شیخ نعیم قاسم نے آخر میں کہا:

ہم حق کا پرچم اٹھائے رہیں گے یہاں تک کہ اسے امام مہدی (عَجَّلَ اللہُ تَعَالی فَرَجَہُ الشَّرِیفَ) کے سپرد کر دیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha