20 اپریل 2026 - 20:42
اپنے ملک کی پالیسیوں پر غم و افسوس کے ساتھ ایرانی قوم کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کرتا ہوں، امریکی فلاسفر

سابق امریکی میرینز کیپٹن اور فلسفی پروفیسر جیمز ہینری فٹزر کا خط رہبر معظم کے نام اپنے خط میں ایران کے مقابلے میں اپنے ملک کی پالیسیوں پر "گہرے غم و افسوس" اور ایرانی قوم کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے، ملت ایران کی "شجاعت و استقامت" کو خراج تحسین پیش کیا۔ / ایران کے جوہری ڈاکٹرائن میں تبدیلی کی تجویز دی جاتی ہے۔  

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، نامور امریکی فلاسفر آف سائنس اور منیسوٹا یونیورسٹی کے پروفیسر جیمز ہینری فیٹزر (James Henry Fetzer) نے رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای (حفظہ اللہ) کے نام خط میں  لکھا: ایران شریف ترین اور امن پسند ترین قوم ہے جس نے 1775ع‍ سے اب تک کسی بھی ملک پر حملہ نہیں کیا اور "گریٹر اسرائیل" کے منصوبے کے مقابلے میں کھڑے ہوکر کئی عشروں کی منصوبہ بندی سے برآمد ہونے والی متواتر لہروں میں اپنی عالمی پوزیشن کو بہتر کر رہی ہے۔

انھوں نے مزید لکھا: دنیا میں آج ہر شریف اور مہذب انسان ایران کے ساتھ کھڑا ہوجاتا ہے۔ دنیا ایران کے جوابات سے حیرت زدہ ہے، اور اس کی تعریف و تمجید کرتی ہے اور اسرائیل کو پہنچے والے ناقابل تلافی نقصانات اور اسرائیل کے غزہ کی صورت حال سے دوچار ہونے، اور ساتھ ہی ساتھ امریکہ کے اڈوں کی تباہی خطے سے امریکہ کے انخلاء اور ناقابل شکست ایران اور خطے کے ممالک کے درمیان سلامتی کی نئی ترتیب کے قیام پر منتج ہو رہی ہے۔ چونکہ امریکہ اور اسرائیل ناقابل اعتماد ہیں چنانچہ ایران کے جوہری ڈاکٹرائن میں تبدیلی کی تجویز دی جاتی ہے۔  

رهبر معظم جمهوری اسلامی ایران

حضرت آیت الله مجتبی خامنه‌ای

جناب عالی

گہرا غم و افسوس اس لئے کہ میرے ملک نے اسرائیل کے ساتھ ملک کر اسلامی جمہوریہ ایران کو بڑے اور بلاجواز نقصانات پہنچانے کے لئے سازش کی ہے، بحریہ کے سابق کیپٹن اور ممتاز فلسفی کی حیثیت سے، یہ خط لکھ رہا ہوں تا کہ ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کروں اور آپ کی شجاعت اور استقامت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے آپ کی حمایت کروں۔

اب یہ حقیقت آشکار ہو چکی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کو شکست نہیں دے سکتے، بلکہ وہ اپنی توقعات کے برعکس، سپاہ پاسداران کے ہاتھ عظیم شکست سے دوچار ہوجاتے ہیں۔ اس امکان کا سامنا کرنے کے لئے آپ کی عشروں کی منصوبہ بندی، بیلسٹک میزائل - ڈرون حملوں کی متواتر اور مسلسل لہروں میں اجاگر ہوئی ہے۔

انھوں نے [یعنی ایران کی مسلح افواج نے] خلیج فارس کے ساحلی ممالک میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے فوجی اڈوں کو منہدم کر چکے ہیں اور اسرائیل کو غزہ کا دوسرا نمونہ بنا رہے ہیں۔ انھوں نے [یعنی اسرائیلوں نے] ان اثاثوں اور اڈوں کو فلسطین کے سربلند عوام سے ناجائز فائدہ اٹھا کر، بالکل غیر قانونی کوششوں سے، اور مشرق وسطیٰ پر تسلط جمانے کی ـ تاریخی لحاظ سے غیر منصفانہ عزائم ـ بنیاد پر اپنے لئے فراہم کر دیئے ہیں۔

اگرچہ جنگ بندی بظاہر خوشایند نظر آتی ہے، لیکن ریاست ہائے متحدہ اور اسرائیل بالکل ناقابل اعتماد ہیں اور ان کی باتوں پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ اسرائیل نے قبل ازیں لبنان کو جنگ بندی سے مستثنیٰ کر دیا ہے، جہاں، لگتا ہے کہ حزب اللہ آسانی سے انہیں شکست دیتی ہے۔ بدقسمتی سے، یمن میں حوثیوں کو اسرائیل کے [ممکنہ] ٹیکٹیکل جوہری حملے کا سامنا ہے اور وہ [اسرائیلی] اسے ایران کے خلاف استعمال کرنے کی طرف بھی راغب ہیں!

 

جاری ہے۔۔۔ 

امریکہ اسرائیل کا حلقہ بگوش غلام؛ دنیا کا مستقبل ایران، چین اور روس کا ہے

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha