18 اپریل 2026 - 00:29
حصۂ پنجم 40 روزہ جنگ میں ٹرمپ کی تزویراتی شکست؛ اقتصادی ناکامیاں اور ساکھ کا خاتمہ / تکمیلی ناکامیاں

اسلامی جمہوریہ ایران نے، چالیس سالہ تزویراتی جنگ کے دوران، عوامی استقامت، فوجی تسدید اور زیرکانہ سفارتکاری کے سہارے، امریکہ کے زیادہ سے زیادہ دباؤ کے امریکی پراجیکٹ پر 30 تزویراتی ناکامیاں مسلط کی ہیں اور علاقائی طاقت کے قواعد کو اپنے نام کر دیا۔ / دشمن کی تکمیلی ناکامیاں: ایران کی اقتصادی راہداریوں میں خلل ڈالنے میں ناکامی / ورچوئل اسپیس پر بدامنی پھیلانے اور ایران کے سائبر ڈھانچوں میں خلل ڈالنے میں ناکامی / ایٹمی معاہدےJCPOA   سے بڑھ کر نیا سمجھوتہ اور تحقیر آمیز شرائط ٹھونسنے میں ناکامی / نفسیاتی، تشہیراتی جنگ اور بیانیوں کی لڑائی میں شکست.

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛

بین الاقوامی تعلقات کی تاریخ میں ایک عالمی طاقت شاذ و نادر ہی ـ اپنی تمام تر فوجی، ابلاغیاتی، معاشی صلاحیتوں کو 40 روزہ جنگ کے دوران ـ نہ صرف اپنا کوئی ہدف حاصل نہ کرسکی ہے بلکہ ہر مرحلے میں ایک نئی شکست کے تجربے سے گذری ہے۔

یہ رپورٹ میدانی مستند اور میدانی حقائق کی بنیاد پر ایک زیادہ سے زیادہ ہمہ جہت پراجیکٹ کی شکست و زوال کے نمونے پیش کرتی ہے:

حصۂ پنجم؛ دشمن کی تکمیلی ناکامیاں

28۔ ایران کی اقتصادی راہداریوں میں خلل ڈالنے میں ناکامی

دشمن کا ایک مقصد ایران کی شمالی-جنوبی راہداریوں کی بندش اور مواصلاتی ترقی کا عمل روکنا تھا، جو بدستور جاری و ساری ہے اور دشمن کی کوشش ناکام رہی۔ نہ صرف INSTC کوریڈور کی کارکردگی میں اضافہ ہؤا بلکہ چین، روس اور وسطی ایشیا کے ساتھ ایران کا اتصال پہلے سے کہیں زیادہ مستحکم ہؤا۔

29۔ ورچوئل اسپیس پر بدامنی پھیلانے اور ایران کے سائبر ڈھانچوں میں خلل ڈالنے میں ناکامی

بندرگاہوں، ڈیموں، جوہری تنصیبات جیسے انتہائی اہم نیٹ ورکس کو نقصان پہنچانے کے لئے، "دشمن کے پیشگی سائپر حملے" کی حکمت عملی ناکام ہو گئی۔ ایران کی سائبر سیکورٹی قائم رہی اور تسدیدی اور تقابلی حملے انجام پائے، دشمن ملکی سسٹمز میں دراندازی نہیں کر سکا اور جوابی حملے بھی انتہائی کامیاب رہے۔ جیسے حنظلہ ہیکر گروپ کے انتہائی کامیاب حملے جو ایران کے میزآئل اور ڈرون حملوں میں بھی بہت کام آئے۔

30۔ ایٹمی معاہدےJCPOA   سے بڑھ کر نیا سمجھوتہ اور تحقیر آمیز شرائط ٹھونسنے میں ناکامی

صہیونیوں کی ایپسٹین فائلز میں پھنسا ہؤا امریکی صدر ٹرمپ میدان جنگ میں شکست کھانے کے باوجود مذاکرات کی میز پر، پھر بھی اپنے وہمیاتی مقاصد کے حصول کے لئے کوشاں تھا۔ وہ پھر بھی میزائل ٹیکنالوجی اور ایران کی علاقائی پالیسیوں کے بارے میں ـ کوئی بھی متقابل ذمہ داری قبول کئے بغیر ـ مذاکرات کا خواہاں تھا لیکن ایران نے ان وہمیات کو یکسر مسترد کر دیا اور ٹرمپ انتظامیہ کو حتیٰ اپنی پابندیوں پر نظر ثانی کرنا پڑی ہے یا کرنا پڑ رہی ہے۔

یہاں روزہ جنگ میں سوپر پاور کہلوانے والے دشمن کی 31 ناکامیاں بیان کی گئی ہیں حالانکہ ان دنوں دشمن کی نت نئی ناکامیاں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ یہ ناکامیاں صرف حادثاتی یا اتفاقیہ نہیں ہیں۔ ایران طاقتور ہے، دشمن نے دشمنی کی تمام حدیں پار کرلی ہیں، پابندیوں سے لے کر بغاوت کرانے کی کوشش تک، طیارہ بردار جہازوں کی تعیناتی سے زمینی حملوں کی تیاریوں تک، بنیادی ڈھانچوں پر بمباری سے لے کر رہبر معظم کی شہادت تک، لیکن اپنے مقاصد تک نہیں پہنچ سکا ہے، یہ ایک جامع تزویراتی شکست تھی جو پہلی مرتبہ امریکہ کے حصے میں آئی ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے پہلی مرتبہ اس بڑی شیطانی طاقت کے سامنے ناقابل شکست تزویراتی تسدید (Deterrence) قائم کر لی ہے اور یہ تسدید تاریخ میں، اسلامی جمہوریہ ایران کی طاقت کی زندہ جاوید دستاویز کے طور پر باقی رہے گی؛ اب ایران کو نہ دھمکی دی جاتی ہے نہ ایران پر کوئی سودے بازی ہو سکتی ہے، یہ کھیل کا نیا قاعدہ ہے۔

اسی وقت ایک طرف سے ـ امریکی معمول کے برعکس ـ سینکڑوں امریکی دانشوروں نے کھلا خط لکھ کر اس غیر قانونی جنگ کی مذمت کرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کیا اور کچھ دانشوروں نے رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای (حفظہ اللہ) کو براہ راست خطوط بھیج دیئے اور اعلان کیا کہ وہ "تاریخ کی صحیح سمت میں کھڑا ہونا چاہئے ہیں۔ امریکی دانشوروں، نظریہ سازوں اور قانون دانوں، ذرائع ابلاغ کی طرف سے ٹرمپ کے خلاف خلاف قانونی اور سیاسی تحریکیں شروع ہو چکی ہیں اور نہ صرف جنگ کا قانونی زیر بحث ہے بلکہ ٹرمپ اور اس کی انتظامیہ پر مقدمات شروع ہونے کا امکان پایا جاتا ہے اور ان جنگی مجرموں کا سیاسی مستقبل بھی تاریک ہو چکا ہے۔

31۔ نفسیاتی، تشہیراتی جنگ اور بیانیوں کی لڑائی میں شکست

ناعاقبت اندیش پیڈوفائل کے سائکوپیک نے ان ناکامیوں کے بعد پھر بھی فتح مندی جتانے کے لئے ایک ناقابل عمل منصوبے کا اعلان کیا جو بہت مشکل اور امریکہ کے لئے بہت مہنگا پڑے گا؛ کیونکہ آبنائے ہرمز کے بعد اب آبنائے باب المندب بھی بند ہو سکتا ہے اور دنیا کو مزید ناقابل برداشت چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اب بیانیوں کی جنگ ایک بار پھر ایران کے حق میں آگے بڑھ رہی ہے۔ اسی بیانئے کے تسلسل ميں، تہران میں الجزیرہ کے نامہ نگار "نورالدین الدغیر" کا کہنا ہے کہ "میں سن رہا ہوں کہ [بظاہر ایران کے بحری محاصرے کے دعویدار] امریکی حکام کی طرف سے، کچھ واسطوں سے تہران کو پیغام ملا ہے کہ ٹرمپ چاہتا ہے کہ مذاکرات سے ایک ایسا نتیجہ سامنے آئے جس سے اس کی کامیابی کی مدہم سی تصویر بن پائے۔"

الدغیر کے دعوے کے صحیح یا غلط ہونے سے قطع نظر، حقیقت یہ ہے کہ عالمی بیانیہ ایران کی فتح اور امریکی شکست پر تاکید کر رہا ہے، چنانچہ امریکہ کو ایک ایسی علامت کی ضرورت ہے جو اس کی ظاہری کامیابی کا مظہر ہو۔

ٹرمپ نے ان 46 دنوں میں 60 سے زیادہ مرتبہ ایران کے مکمل خاتمے اور امریکہ کی اٹل فتح کے دعوے کئے ہیں، اور اگرچہ اس کو ـ عالمی منڈیوں کی بے چینی کو کنٹرول کے لئے بھی ـ ان دعوؤں کی ضرورت ہے، گوکہ یقینا خود کو فاتح کے طور پر متعارف کرانے کے درپے بھی ہے؛ لیکن بین الاقوامی رائے عامہ کے میدان میں یہ ظاہری تصویر بھی قابل اعتماد نہیں ہے۔

میدانی حقیقت اور ابلاغیاتی بیانئے روز بروز عیاں کر رہے ہیں کہ طاقت کا توازن امریکہ کے خلاف، بدل رہا ہے۔

جنگ کے آغاز پر، ٹرمپ ایک "آسان اور نتیجہ خیز جنگ" کے دعوے کر رہا تھا، لیکن اب وہ ایران کے بحرے محاصرے جیسے انتہائی مہنگے اور ناقابل عمل منصوبوں کا سہارا لے رہا ہے اور اس طرح سے جھوٹے فاتحانہ بیانئے کی تشکیل کے لئے کوشاں ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے مقابلے میں امریکہ اور اس کے صہیونی اور عرب اتحادیوں کی ہمہ جہت ناکامیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ "زیادہ سے زیادہ دباؤ" کی حکمت عملی ناکام ہوگئی ہے، ایرانی تیل آزادانہ طور پر بک رہا ہے، اور ایران کے لئے مزید کشائشیں آ رہی ہیں، امریکہ اور اس کے حامی دباؤ ڈال کر خود زیادہ شدید دباؤ سے دوچار ہونے لگے ہیں، چنانچہ "امریکی فتح" کا بیانیہ بنانے کے لئے کوئی بھی کوشش پہلے سے کہیں زیادہ، ناقابل یقین ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha