15 مارچ 2026 - 22:08
عزت بچانا جھوٹ کے سہارے؛ امریکی فوج میں خودزنی کی کوئی انتہا نہیں

"صاف ستھری تیزرفتار کاروائی" وہ عنوان تھا جو امریکی ایران کے خلاف اپنی جنگ کے لئے بروئے کار لانا پسند کرتے تھے؛ ایک تیزرفتار کاروائی، بہت کم جانی نقصان کے ساتھ ان کے لئے۔ جب جنگ طویل ہوئی، تو امریکی فوج میں فنی نقص اور خودزنی (Self-hurt) میں زبردست اضافہ ہؤا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || رمضان 1447 کی مسلط کردہ جنگ میں جب بھی امریکی طیاروں کے مار گرائے جانے یا امریکی نیوی کے جہازو میں کوئی زبردست قسم کے حادثے کی خبر آتی ہے، تو امریکی سینٹرل کمانڈ کا بیان آتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ "یہ فرینڈلی فائر" کا نتیجہ تھا، "فنی نقص" (Technical fault) تھا.

اب تک دعوی کیا جاتا رہا ہے کہ 3 یا 4 ایف 15 طیارے اور کم از کم ایف-18 نیز ایک جنگی طیاروں کو فضا میں ایندھن فراہم کرنے والے اسٹراٹیجک طیارہ ـ عراق میں ـ تباہ ہوگئے لیکن سینٹکام نے کہا: انہیں ہم نے خود غلطی سے ـ فرینڈلی فائرنگ کے واقعے میں ـ مار گرایا ہے!

حال ہی میں کئی انتہائی جدید قسم کے امریکی ڈرونز بھی مبینہ فنی نقص کی وجہ سے گر گئے، یہی نہیں جیرالڈ فورڈ طیارہ بردار جہاز بھی دو بار فنی نقص سے دوچار ہؤا: ایک دفعہ ملاحوں کے ہاتھوں لیٹرینوں میں بنیانیں ٹھونسے جانے کی وجہ سے نکاسی کا نظام خراب ہؤا!! اور جب یہ جہاز خطے کی طرف آتے ہوئے بحیرہ احمر میں آتش زدگی کا شکار ہؤا، 'فنی نقص' کی وجہ سے، اگرچہ کہا جاتا ہے کہ اس سب سے بڑے طیارہ بردار جہاز کی نفری ایرانیوں کا سامنا کرنے سے خائف ہیں اور کسی صورت میں بھی خطے میں نہیں آنا چاہتے، اس لئے بھی کہ انہوں نے دوسرے طیارہ بردار جہاز ابراہام لنک کا انجام دیکھ لیا ہے جو کئی مرتبہ ایرانی میزائلوں کا نشانہ بن کر نان اپریشنل اور اصطلاحا اپاہج ہو گیا اور اب ٹگ بوٹس (Tugboats) اسے کھینچ کھانچ کر امریکہ کی طرف لے جا رہا ہے۔ کم از کم کئی سو امریکی فوجی بھی ایرانی حملوں میں مارے گئے ہیں جنہیں یورپ منتقل کیا گیا ہے، لیکن امریکی کہتے ہیں صرف کچھ فوجی brain damage سے دوچار ہوئے ہیں وہ بھی گاڑیوں کے تصادم یا چھت گرنے یا آپس میں دوستانہ جھگڑے کی وجہ سے!!

عزت بچانا جھوٹ کے ذریعے؛ امریکی فوج میں خودزنی کی کوئی انتہا نہیں

واشنگٹن کا زوال خاندانی اختلافات کی وجہ سے؟

بہرحال، اب تک اس پندرہ روزہ جنگ میں امریکیوں کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ان نقصانات کو فرینڈلی ایکسیڈنٹس کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے، چنانچہ حال ہی میں چینی حکومت سے منسوب اکاؤنٹ نے جنگ کے دوران تباہ ہونے والے یا نقصان اٹھانے والے امریکی لڑاکا طیاروں، بحری جہازوں اور فوجی اڈوں کی تباہی کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا: "یہ حادثاتِ اتفاقیہ صرف امریکہ میں رونما ہو رہے ہیں،۔۔۔ کل کلاں اگر واشنگٹن پر کسی کا قبضہ ہو جائے تو وہ کہیں گے: "یہ محض ایک خاندانی جھگڑا تھا"۔

دوسری طرف سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کسی نے لکھا تھا: ایرانی حملے کر رہے ہیں، خطے میں امریکی اڈے تباہ ہو رہے ہیں اور امریکیوں کا دعوی ہے کہ کوئی بھی امریکی نہیں مرا۔۔۔ خدشہ ہے کہ جنگ کے بعد امریکی دعوی کر دیں کہ ایرانی حملوں میں نہ صرف کوئی امریکی نہیں مرا بلکہ کئی سو یا کئی ہزار امریکی بچوں نے ان حملوں سے جنم لیا۔

حقیقت یہ ہے کہ اس وقت امریکی فوج اپنے ایک ٹریلین بجٹ کے باوجود ایران کے مقابلے میں بہت بڑی شکستوں سے دوچار ہؤا ہے۔ یہ ناکامیاں اور شرمندگیاں باعث ہوئی ہیں کہ انہوں نے "ساکھ بچانے" کے لئے ایک عارضی علاج کی حکمت عملی اپنائی ہے تاکہ پٹے ہوئے امریکی سرکردگان اور شکست خوردہ امریکی فوج کو فی الوقت کچھ سکون پہنچایا جا سکے۔

میناب میں میں پرائمری اسکول پر امریکی فوج کے  دوہرے حملے کے واقعے سے لے کر امریکی فوجیوں کے جان نقصانات چھپانے یا کچھ ہلاکتوں کو ٹریفک حادثوں اور غیر جنگی واقعات سے نسبت دینے تک سب کے سب اسی جھوٹی حکمت عملی کا تسلسل ہیں۔

امریکی فوج کی "‌X وکٹری"

جنگ کے آغاز سے اب تک امریکی کئی مرتبہ ورچوئل اسپیس اور X نیٹ ورک پر فاتح بن کر سامنے آئے ہیں، کئی مرتبہ انھوں نے اسی اسپیس میں آبنائے ہرمز کو کھول دیا اور آئل ٹینکرز کو بحفاظت گذار دیا ہے، گوکہ اس حوالے سے امریکی وزیر توانائی نے ایکس نیٹ ورک پر ایک شیخی چھوڑی تھی لیکن بالآخر اسے یہ پیغام حذف کیا اور کہا کہ یہ ایک ادارہ جاتی غلطی کا نتیجہ تھا۔

ٹرمپ نے کئی بار کہا کہ اس نے ایران کو مکمل طور پر شکست دی ہے، اور ایرانی مجلس کے اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف نے امریکیوں کے ایک ایسے ہی پیغام کا جواب دیا اور لکھا: "ٹرمپ نے گذشتہ ایک ہفتے کے دوران 9 مرتبہ ایران کو شکست دی ہے۔"

عزت بچانا جھوٹ کے ذریعے؛ امریکی فوج میں خودزنی کی کوئی انتہا نہیں

شیخیاں ٹرمپ کے لئے درد سر بن گئیں

ٹرمپ اور اس کی ٹیم کے افراد کی لفاظیاں اور شیخیاں اس قدر پھیل گئیں کہ کچھ صہیونیوں نے بھی ان کا مذاق اڑایا:

ٹائمز آف اسرائیل کے نامہ نگار 'تال اشنائیدر'، نے ایکس نیٹ ورک پر ٹرمپ کی ہرزہ سرائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا: "گوکہ ٹرمپ کہتا ہے کہ اس نے ایران کی 100 فیصد فوجی صلاحیتوں کو تباہ کر دیا ہے، لیکن وہ [ایرانی] ہمیں مسلسل میزائل حملوں کا نشانہ بنا رہے ہیں۔"

عزت بچانا جھوٹ کے ذریعے؛ امریکی فوج میں خودزنی کی کوئی انتہا نہیں

جیکسن ہنکل نامی امریکی میڈیا کارکن نے ایکس نیٹ ورک پر لکھا: "38 منٹ قبل: ٹرمپ نے کہا کہ اس نے ایران کی 100 فیصد فوجی صلاحیتوں کو تباہ کر دیا ہے۔ 26 منٹ قبل: ایران نے اسرائیل پر بڑا میزائل حملہ کیا ہے اورکم از کم 5 میزائل تل ابیب کو لگ گئے ہیں۔"

ٹرمپ اور امریکی فوج کی دروغ گوئیاں باعث ہوئی ہیں کہ مرکزی خاتم الانبیاء(ص) ہیڈ کوارٹر نے رد عمل ظاہر کیا اور اس ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے کہا: "جو دشمن اپنے فوجیوں کی ہلاکت کو ہلکا سا برین ڈیمیج کا نام دے، فطری امر ہے کہ وہ جیرالڈ فورڈ کیریئر میں آتش زدگی اور اس کے نتیجے میں  کئی امریکیوں کی ہلاکت و جراحیت کو بھی نظرانداز کردے اور اپنے فضائی فیول ٹینکرز کی تباہی کو بھی فنی نقص کا نتیجہ قرار دے۔'

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha