بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || سی این این نے سیٹلائٹ تصاویر کے حوالے سے کہا ہے کہ ایران نے امریکی ـ صہیونی جارحیت کے خلاف اپنی جوابی کاروائیوں کے پہلے دنوں میں، اردن میں تعینات جدیدترین امریکی ریڈار کو تباہ کر دیا ہے۔
سی این این نے اپنی ویب گاہ پر لکھا ہے کہ ایرانی افواج کی حکمت عملی یہ ہے کہ خطے میں امریکی میزائل دفاعی نظام کو کمزور کر دے، تاکہ وہ امریکی اور اسرائیلی مراکز اور ٹھکانوں کو آسانی سے نشانہ بنا سکے۔
اردن میں ایئربیس پر تھاڈ نامی ریڈار
مورخہ 3 مارچ 2026ع کی سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق، امریکی فوج کے امریکی (THAAD) میزائل سسٹم کا ریڈار ـ جو اردن کے عبداللہ دوئم (موفق سالطی) ایئر بیس ایرانی ہتھیاروں کا نشانہ بن کر مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔
یہ ایئربیس ایران کی سرحد سے 800 کلومیٹر (500 میل) کے فاصلے پر واقع ہے۔
تباہ شدہ ریڈار، اس میزائل سسٹم کا بنیادی حصہ سمجھا جاتا ہے جو فضائی اہداف کی شناخت و تعاقب کرتا ہے، داغے جانے والے میزائل شکن میزائلوں کو گائیڈ کرتا ہے تاکہ دشمن کے بیلسٹک میزائلوں کو نشانہ بنا سکے۔
امریکی ڈیفنس ایجنسی کے بجٹ سے حاصل شدہ معلومات 2025ع کے مطابق، اس سسٹم کی لاگت نصف ارب (پچاس کروڑ) ڈالر ہے۔
امارات میں ریڈار تنصیبات پر حملے
سی این این نے سیٹلائٹ تصاویر کا تجزیہ کرکے واضح کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں ایک ہی جیسے دو ریڈار سسٹمز کی عمارتوں کو ایرانیوں نے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا ہے۔
اسی حال میں، یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ ان عمارتوں کے اندر لگی تنصیبات کو کتنا نقصان پہنچا ہے۔
نقصانات کا ماہرانہ جائزہ
فوجی ماہرین کہتے ہں کہ ریڈار کی تباہی سے تھاڈ سسٹم مکمل طور پر ناکارہ نہیں ہوتا اور یہ سسٹم دوسرے اثاثوں کو بروئے کار لا کر محدود سطح پر اپنا کام جاری رکھ سکتا ہے، لیکن اس کی صلاحیت شدت سے کم ہو جاتی ہے، لیکن اہم بات یہ ہے کہ امارات میں خود تھاڈ دفاعی نظام کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔
پینٹاگون اور امارات کا رد عمل
سی این این نے امریکی فوج کے ترجمان سے کہا کہ ان تصاویر کے بارے میں اظہار خیال کرکے تو اس نے کچھ کہنے سے انکار کر دیا۔
امارات نے اپنے ایک بیان میں اعلان کیا کہ یہ ریاست کسی بھی قسم کے خطرے سے نمٹنے کے لئے تیار ہے:)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ