بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اسلامی جمہوریہ ایران نے ایران کے ابتدائی حملوں نے اپنی سرزمین کے قریب ـ قطر، کویت اور مشرقی سعودی عرب میں ـ واقع اڈوں کو ــ جو ایران کی سرحدوں سے 600 سے 700 کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر تھے ــ 40 روزہ مسلط کردہ جنگ کے دوران شدید زدپذیر کر دیا تھا۔


امریکہ نے ایران کے حملوں سے بچنے کے لئے اپنا اہم فضائی اور دفاعی ساز و سامان قطر، کویت اور مشرقی سعودی عرب سے ہٹا کر سعودی عرب کے الخرج اور اردن کے الازرق میں منتقل کر دیا۔ ایران کے ابتدائی حملوں نے تقریبا ان اڈوں کو شدید کمزور کر دیا تھا، جس پر امریکی کمانڈ کو صحرا کی گہرائی میں تدبیری (tactical) پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ البتہ اس منتقلی سے ایران کے افواج اور میزائل اڈوں پر امریکی ردعمل کا وقت بڑھ گیا۔


امریکہ نے زمینی ریڈاروں کے ضیاع کے بعد پہلی بار ایرانی میزائلوں کی نشاندہی کا نیٹ ورک مکمل طور پر فضائی نظاموں پر استوار کیا، جس میں MQ-9 اور MQ-4 ڈرونز، صیہونی رجیم کے جاسوسی طیارے اور ڈرونز نیز، E-11، E-3 اور E-2D طیارے شامل تھے۔ یہ نیا نمونہ ایران کے لئے مشن کو تقریباً ناممکن بنا دیتا تھا اور دور دراز اڈوں پر کئی میزائل حملے تسلی بخش نتائج نہ دے سکے۔

اس تعطل کے بعد ایران نے انداز بدلا اور براہ راست لانچنگ پلیٹ فارمز کو نشانہ بنانے کے بجائے، دور دراز امریکی اڈوں کے معاونتی نیٹ ورک اور ایندھن رسانی کے نیٹ ورک کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا۔

منطق یہ تھی کہ الخرج اور الازرق کے لڑاکا اور آواکس جاسوسی طیارے اپنے مشن کے لئے فضائی ایندھن رسانی پر انحصار کرتے تھے، اور فضا میں یا اڈوں کے درمیان آمد و رفت کرنے والے ایندھن رسان طیارے اس پیچیدہ نیٹ ورک کا کمزور نقطہ تھے۔ اس کے لئے مہینوں کی معلومات اور مسلسل نگرانی درکار تھی جو انجام پائی۔

پھر ایک مشترکہ کارروائی میں کئی ڈرونز اور میزائلوں نے بیک وقت اس نیٹ ورک کے مختلف مقامات کو نشانہ بنایا۔ نتیجہ توقع سے بڑھ کر رہا: 7 ایندھن رسان طیاروں کو شدید نقصان پہنچا اور دو مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ کم از کم ایک تھاڈ دفاعی نظام مکمل ناکارہ اور تباہ ہو گیا، ایک ـ دوسرا ـ آواکس نشانہ بن کر گر گیا، ایندھن رسانوں کی مرمت اور کنٹرول کا مرکز تباہ ہو کر عملی طور پر سروس سے خارج ہو گیا، اور امریکی افواج کی رہائشی عمارتیں بھی تباہ یا شدید متاثر ہوئیں۔

اس نئے انداز کے نتائج اعلیٰ درجے کی درستی اور حساس مقامات کی مکمل شناخت اور ایرانی افواج کی اعلی مہارت کو عیاں کیاکو ظاہر کرتے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رپورٹ: مہدی طلوع وند
تلخیص و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ