بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || آبنائے ہرمز کھلا بھی تھا اور ایران اس سے کوئی آمدنی بھی نہیں کماتا تھا، یہی نہیں بلکہ جہازرانی کا تحفظ بھی کرتا تھا / ٹرمپ نے ایران کی حکومت ختم کرنے، ایران کو پتھر کےزمانے میں لوٹانے، ایران کی تہذیب مٹانے کی غرض سے جارحیت کی لیکن آخرکار اس آبنائے کو کھول دینے تک محدود ہؤا جوپہلے سے کھلا تھا۔ اب وہ جتنا زور لگاتا ہے آبنائے ہرمز اتنا ہی عالمی تجارت اور جہازرانی سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ عالمی برادری ایک نفسیاتی مریض کے رحم و کرم پر نہ امریکہ میں کوئی 'عقل' ہے کہ اس کو اپنے سر سے گرا دے نہ دنیا میں اتنی جرات ہے کہ اس کو قابو کرلے۔ کوئی اتنا بھی نہیں کہہ سکتا کہ اے ٹرمپ تو ایران کے ساتھ میں شکست کھا گیا ہے! اس کی ہرزہ سرائیاں سنتے ہیں اور اسے خوش کرنے کے لئے، تالیاں بجاتے ہیں! یہ دنیا اسی صورت حال کی مستحق ہے گویا۔
عوامل بہت ہیں جو ایرانیوں کے اس انتظار کا سبب بنتے ہیں جیسے ایرانیوں کی عظیم فوج، جغرافیے سے مکمل آشنائی اور زمینی جنگ میں ناقابل انکار بالادستی؛ اور پھر اگر جنگ ہوتی ہے تو ایران کسی مقام پر قبضے کے بجائے اپنی توجہ جارحوں کے قتل عام پر مرکوز کرے گا۔
جمعرات کی صبح سے شروع ہونے والی صہیونی-امریکی اہداف پر نئی میزائل-ڈرون کاروائی جاری رہی۔ تازہ ترین کاروائیوں میں بھاری بھرکم 'خرمشہر-4' میزائل نے مقبوضہ تل ابیب کے مرکز پر لرزہ طاری کر دیا۔
جیرڈ کوشنر کی دولت میں اچانک اضافہ خلیج فارس کی ساحلی ریاستوں کے عرب حکمرانوں کے پیٹرو ڈالرز اور کی سرمایہ کاری کی وجہ سے ہؤا اور کوشنر کی سلطنت عربوں کی مالی حمایت پر استوار ہوئی۔ بہت سے لوگوں سمجھے کہ کوشنر نے وائٹ ہاؤس چھوڑنے کا فیصلہ اس لئے کیا کہ ان کے عرب حکمرانوں کے ساتھ اختلافات پیدا ہوئے تھے، حالانکہ ان کے تصور کے برعکس یہ تعلقات روز بروز قریب تر ہوتے جا رہے تھے۔