3 اکتوبر 2026 - 23:05
ایران کے ہاتھوں اسرائیل کا سہارا ٹوٹنے کی کہانی، کارنیگی فاؤنڈیشن کی زبانی - 1

کارنیگی فاؤنڈیشن میں الیکٹرانک جریدے "دیوان" کے ایڈیٹر کا ماننا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں امریکی شکست اور الجھن کی وجہ سے، مغربی ایشیا کے خطے سے امریکہ کی دوریاں بڑھانے کا عمل ممکنہ طور تیز تر ہو گا۔ انھوں نے ٹرمپ کو وہم پیدا کرنے کا استاد قرار دیا اور ٹوٹ پھوٹ کے تین نقاط کا ذکر کیا جو امریکہ کی مغربی ایشیا سے علیحدگی کا آغاز ثابت ہوں گے۔

بین الاقوامی تجزیہ گروپ: مائیکل ینگ، کارنیگی فاؤنڈیشن میں "دیوان" (Diwan) میگزين کے ایڈیٹر مائیکل ینگ (Michael Young) کا ماننا ہے کہ جس وقت امریکہ ایران کے ساتھ اپنے تنازع میں الجھن اور ناکامی کا شکار ہؤا ہے اور ـ "وہم پیدا کرنے کا استاد" ـ ڈونلڈ ٹرمپ، امریکی رائے عامہ اور دیگر لوگوں کو قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ اس کی ناکام فوجی کارروائی درحقیقت اپنے اندر حتمی فتح چھپائے ہوئے ہے، اس کے باوجود "اچھی خبر" یہ ہے کہ یہ تمام پیش رفت مشرق وسطیٰ میں "امریکی ساختہ سلامتی" سے فاصلہ بڑھانے کی طرف بڑھنے کے عمل کو تیزتر کر رہی ہے۔

مائیکل ینگ کا ماننا ہے کہ خطے میں امریکی سلامتی ترتیب (Security order) دعوؤں پر مبنی حفاظتی انتظامات کے ایک سلسلے کی بنیاد پر قائم تھی جو سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ کی یک طرفہ پالیسی اور علاقائی بالادستی سے مضبوط ہوئی تھی۔ تاہم، یہ ترتیب اب ہماری آنکھوں کے سامنے ٹوٹ رہی ہے اور صورتحال موجودہ نقطے تک پہنچ گئی ہے، کیونکہ یہ ترتیب ـ غزہ میں جنگ شروع ہونے اور ایران میں حکومت کی تبدیلی کے حصول پر امریکہ اور اسرائیل کی توجہ کے بعد سے، ـ تین شعبوں میں ٹوٹ پھوٹ سے دوچار ہو چکی ہیں۔

1۔ اخلاقی ٹوٹ پھوٹ / گراوٹ

ینگ سمجھتے ہیں کہ امریکہ اور اس کے کچھ اتحادیوں کی حمایت سے، اسرائیل کی جانب سے، فلسطینی اور لبنانی عوام کا مسلسل قتل عام، "بجا طور پر" باعث بنا ہے کہ خطے کے بہت سے لوگ اس نتیجے پر پہنچیں کہ امریکی ترتیب بنیادی طور پر ایک اسرائیلی ڈھانچے پر قائم اور ایک اسرائیلی ترتیب (Israeli order) ہے؛ ایسی ترتیب جس میں خطے کے لوگوں ـ خاص طور پر فلسطینیوں ـ کی خوشحالی کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

ان کا دعویٰ ہے کہ غزہ کا معاملہ آج بھی ایک نسلی معاملہ ہے؛ یعنی یہ کہ مغرب کے نقطۂ نظر سے، بظاہر، فلسطینیوں کی جلد کا رنگ انسانی حقوق سے لطف اندوز ہونے کے لئے موزون نہیں ہے؛ مغربی ممالک فیصلہ کرتے ہیں کہ کن کے حقوق محترم ہیں، اور یہ کہ ان کے سوا، "یہ دوسرے" ان حقوق سے لطف اندوز ہونے کے لائق نہیں ہیں؛ بشمول فلسطینیوں، لبنانیوں اور عام طور پر عربوں کے مقابلے میں اسرائیلی ان حقوق کے مستحق ہیں اور روسیوں کے مقابلے میں یوکرینی!

ینگ وضاحت کرتے ہیں کہ غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینی عوام کا نسلی صفایا (Ethnic Cleansing) کا اسرائیلی ارادہ، ہر روز اسرائیلی حکام کی جانب سے دہرایا جاتا ہے؛ لہٰذا اگر امریکہ ـ جو کسی کو بھی کوئی امن و سلامتی فراہم کرنے سے عاجز ہے اور ایران کے ساتھ جاری جنگ نے بھی اس بے بسی کو ثابت کر دیا ہے اور ساتھ ہی، واشنگٹن، خطے کے لوگوں اور ان کے مطالبات کے بارے میں بھی مکمل طور پر بے پروا ہے، ـ تو وہ کس بنیاد پر مشرق وسطیٰ میں ایک پائیدار حفاظتی اور سلامتی ترتیب قائم کرنے کا دعویٰ کر سکتا ہے؟

ینگ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ اسی وجہ سے "امریکی سلامتی ترتیب" شروع ہی سے، اور اپنی ذات میں، زد پذیر اور ناممکن [نیز مسلط کردہ] تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha