بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ جہاں ٹرمپ نے بڑے شور شرابے کے ساتھ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے "آزادی پروجیکٹ" کا وعدہ کیا تھا، وہاں ایران کی بحری قوت نے اس منصوبے کو امریکہ کے لئے ایک رسواکن شکست میں بدل دیا۔ ٹرمپ کی اچانک پسپائی اور "مذاکرات" کے بہانے اپنے بیانئے میں تبدیلی، اسلامی ایران کی تصور سے بالاتر طاقت کے سامنے امریکی بحریہ کی نااہلی چھپانے کی آڑ تھی جس سے معلوم ہؤا کہ دنیا کے تزویراتی اسٹرٹیجک تنگ راستوں (یا گذرگاہوں Chokepoints) میں ایران کی غیر متناسب دفاعی حکمت عملی (Asymmetric Defense Strategy) کے سامنے امریکی بحری طاقت تعطل کا شکار ہو چکی ہے۔
جنگ کے دنوں نے واضح کر دیا کہ امریکہ میں "شکست کا انتظام" درست فوجی حسابات (اور تخمینوں یا منصوبوں) پر نہیں بلکہ "دعوؤں کے انتظام" پر کیا جاتا ہے۔ جس چیز کو ٹرمپ نے "آزادی پروجیکٹ" کا نام دیا، یہ امریکہ کے کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنے کی ایک کوشش تھی۔ ایک منصوبہ جو بڑے وعدوں اور مبینہ بڑی کاروائیوں کے ساتھ شروع ہؤا لیکن آبنائے ہرمز میں ایران کی طاقتور عزم سے پہلے تصادم کے ساتھ ہی ناکام ہو گیا۔
اس تناظر میں، ایک امریکی تجزیہ کار کا ماننا ہے کہ: "ایران نے 25 گھنٹے سے بھی کم عرصے میں ٹرمپ کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ امریکی بحریہ انتہائی بری حالت "رسوا کن" ہے۔"
ایک امریکی تجزیہ کار کی طرف سے امریکی بحریہ کو "رسوائی" قرار دیا جانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ٹرمپ کے دعوؤں اور حقیقی میدانی کارکردگی کے درمیان خلا امریکی معاشرے کے لئے بھی ناقابلِ انکار ہو چکا ہے۔

شکاگو یونیورسٹی کے پروفیسر: ٹرمپ نے آزادی پروجیکٹ کو سپرد خاک کر دیا
پیچھے ہٹنے کو درست ثابت کرنے کے لئے دوسرے ممالک کے ناموں کا استعمال اور سفارتی درخواستیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ امریکہ میں اب اسلامی ایران کے ساتھ فوجی تصادم جاری رکھنے کی صلاحیت باقی نہیں رہی۔ ٹرمپ کا موقف تبدیل کرنا اس حقیقت کا بالواسطہ اعتراف ہے کہ "آزادی پروجیکٹ" عسکری لحاظ سے تعطل کا شکار ہو چکا ہے اور بچنے کا واحد راستہ مذاکرات کی زبان کا سہارا لینا ہے۔
امریکہ کی خارجہ تعلقات کونسل (Council on Foreign Relations) میں جیو اکنامک سینٹر کے ڈائریکٹر ایڈورڈ فِش مین (Edward Fishman)، کہتے ہیں: "آبنائے ہرمز میں امریکہ کے تازہ ترین منصوبے کے بارے میں ٹرمپی موقف میں 180 ڈگری کی تبدیلی اس بات کا اعتراف ہے کہ 'آزادی پروجیکٹ' شروع ہی سے ناکام ہو چکا تھا اور ہم بدستور اسی تعطل میں پھنسے ہوئے ہیں۔"

یا شکاگو یونیورسٹی کے پروفیسر رابرٹ پیپ (Robert Pape) نے واضح کیا کہ "ٹرمپ نے حال ہی میں آزادی پروجیکٹ کو سپرد خاک کر دیا۔"
کھوکھلے دعوؤں کی بنیاد پر جنگیں اب امریکہ کے سیاسی اور فوجی ڈھانچے کی حمایت حاصل نہیں کر پاتیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے مستعفی عہدیدار جو کینٹ (Joe Kent) نے یہ بھی لکھا کہ "امریکی صدر کی پسپائی ایک اچھی علامت ہے، اپنے سپاہیوں کو گھر واپس بلاؤ۔ ایک اور احمقانہ جنگ میں پھنسنے سے بچو۔"
غیر ملکی تجزیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کی حکمت عملیوں کے سامنے امریکہ کی فوجی اور سیاسی ساکھ زائل ہو چکی ہے۔ "آزادی پروجیکٹ" شروع ہی میں ایران کی بحری قوت کی حقیقت سے ٹکرا گیا اور آبنائے کھولنے کے آپریشن سے آپریشنل ناکامی میں تبدیل ہو گیا۔ ایران نے "جغرافئے"، "ڈرون اور میزائل ٹیکنالوجی" اور "غیر متناسب دفاع" کے ذہین امتزاج سے دنیا کے سب سے طاقتور بحری بیڑے کو عاجز اور تعطل کا شکار کر دیا۔ ایران کے ڈرون اور میزائلوں نے امریکہ کے لئے مقابلے کی لاگت کو بہت زیادہ بڑھا دیا ہے اور جنگی جہازوں کی دفاعی اتہاہ میں گھسنے کی صلاحیت فراہم کر دی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: محمد حسین حمزہ
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110

آپ کا تبصرہ