بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || گذشتہ مہینوں کے دوران سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کو وسیع میڈیا پروپیگنڈے کے ساتھ اس انداز میں تشکیل دیا گیا کہ کسی بھی ملک پر حملے کی صورت میں، اس ملک کی فوجی معاونت کریں گے؛ تاہم لگتا ہے کہ یمن کی جنگ کی نئی صورت حال نے اس فوجی معاہدے کو دھویں میں تبدیل کر دیا ہے۔
دوسری اور آخری قسط:
ان حالات میں جو بات بات بے دھڑک کہی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ سعودی عرب اپنی اس 'نئی فوجی سرمایہ کاری' میں دیوالیہ پن سے دوچار ہؤا ہے؛ ایسا معاہدہ جس کو دفاعی معاہدے کے بجائے زیادہ تر ایک تجارتی معاہدے کا عنواد نیا گیا ہے۔
نیز جس وقت نیٹو تنظیم ـ جو اس طرح کے اتحادوں کا نمونہ سمجھی جاتی ہے ـ کمزور ہو چکی ہے، ماہرین اس طرح کے معاہدوں کے نفاذ کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں۔
سعودی عرب نے پہلے امریکہ کے ساتھ ایسا ہی معاہدہ کیا تھا تاہم ریاض کو اخراجات اٹھانے اور اپنی دولت کے ضیاع کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہؤا۔
اب اس سلسلے میں سعودی عرب کی ایک اور کوشش بند دروازے پر جا ٹکراتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس معاہدے کی ابلاغیاتی تشہیر، ـ جو اسلامی جمہوریہ ایران کے دشمنوں کی طرف سے اس ملک کے خلاف [معاہدے] کے طور پر متعارف کرایا جا رہا تھا ـ یمنیوں کے ہاتھوں دھواں بنا اور ہوا میں اڑ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان کا یمن کے خلاف جنگ میں شامل ہونے سے انکار
پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے انصار اللہ یمن کے خلاف کارروائی کے لئے سعودی عرب کی جانب سے پاکستان سے درخواست کیے جانے سے متعلق سوال پر کہا کہ موجودہ صورتحال میں ایسا کوئی معاملہ زیر غور نہیں ہے اور سعودی عرب کی درخواست سے متعلق خبریں مفروضوں پر مبنی ہیں۔
انھوں نے پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے، [معاہدہ مکہ]، کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ علاقائی امن و استحکام کے فروغ اور دفاعی تسدید (deterrence) کی بنیاد پر قائم ایک دفاعی اتحاد ہے۔
پاکستانی ترجمان نے کہا کہ اس وقت انصار اللہ کے خلاف فوجی کارروائی سے متعلق تمام باتیں مفروضوں پر مبنی ہیں، جبکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط ایک حقیقت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس معاہدے کی شرائط اور تقاضوں کے مطابق عمل کرے گا، تاہم فی الحال اس نوعیت کی کوئی بات پاکستان کے ایجنڈے پر نہیں ہے۔
ادھر روئٹرز نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے ایران کو سعودی عرب کے خلاف انصار اللہ کے استعمال سے باز رہنے کا انتباہ دیا تھا لیکن جب اس بارے میں سجاد حیدر خان سے سوال کی گیا تو انھوں نے اسے غیر مصدقہ قرار دیا اور اس پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یمن جارحیت کا مرتکب نہیں ہؤا، بلکہ جارحیت کا نشانہ بنا ہے / معاہدہ مکہ غیر مؤثر
واضح رہے کہ تین ملکی دفاعی معاہدے کے تحت، معاہدے کے رکن ممالک میں سے کسی بھی ملک پر بیرونی جارحیت ہوئی تو وہ تینوں ملکوں کے خلاف جارحیت سمجھی جائے گی، اور دوسرے دو ممالک بھی میدان میں اتریں گے، جبکہ سعودی عرب نے یمن پر حملہ کیا ہے اور جنگ اس وقت یمن کے اندر سعودیہ کے اجرتیوں کے خلاف ہو رہی ہے، اور اگر یمن کی طرف سے سعودی ٹھکانوں پر کوئی میزائل یا ڈرون داغا جاتا ہے تو وہ ابتدائی حملہ نہیں ہوتا بلکہ آل سعود کی جارحیت کا جواب ہوتا ہے؛ اور پھر آل سعود ـ جس نے 11 سال کے طویل عرصے سے یمن کی ناکہ بندی کی ہے اور بیرونی دنیا سے اس دانہ پانی بند کر دیا ہے ـ پروپیگنڈا کرتا رہا ہے اور کر رہا ہے کہ "یمن میں خانہ جنگی ہو رہی تھی اور اس نے مبینہ قانونی حکومت کی حمایت کے لئے اس ملک میں فوجی مداخلت کی ہے! چنانچہ ترکیہ اور پاکستان کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ آل سعود کے حق میں، یمنیوں کے خلاف جنگ شروع کریں، جو جارح نہیں بلکہ خود جارحیت کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ گوکہ یمنی ـ جو امریکہ سے طویل جنگ لڑنے اور ٹرمپ کو پسپائی پر مجبور کرنے کا حالیہ تجربہ رکھتے ہیں ـ پاکستان اور ترکیہ کے حملوں کے سامنے بھی ہرگز نہیں جھکے گا، اور دوسری سے دونوں کو علاقائی سطح پر اچھی خاصی پیچیدگیوں کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔
اور ہاں! جب ان تین ممالک نے معاہدہ منعقد کیا تو مسلمان خوش ہوئے کیونکہ وہ توقع کر رہے تھے کہ شاید یہ فلسطینی مظلوموں کے حق میں اور جارح صہیونیوں اور امریکیوں کے خلاف ہو، نہ کہ مسلمانوں کے خلاف!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: امیر حمزہ نژاد
ترجمہ اور تکمیل: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ