اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،لبنان کے ریٹائرڈ بریگیڈیئر جنرل اور عسکری و تزویراتی تجزیہ کار شارل ابی نادر نے یمن کے مغربی ساحل پر انصاراللہ کی حالیہ پیش قدمی کو خطے کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک کامیابی قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انصاراللہ نے صرف چند روز میں تقریباً 300 مربع کلومیٹر علاقے پر کنٹرول حاصل کیا، جس سے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں اور باب المندب کے قریب اس کی پوزیشن مزید مضبوط ہوئی ہے۔
لبنانی جنرل کے مطابق سعودی و اماراتی حمایت یافتہ جنگجوؤں میں باہمی اختلافات اور انصاراللہ کی بہتر عسکری منصوبہ بندی نے اس پیش رفت میں اہم کردار ادا کیا۔
شارل ابی نادر کا کہنا ہے کہ یمن میں یہ کامیابی صرف داخلی جنگ کے نقشے کو متاثر نہیں کرے گی بلکہ پورے خطے کے اسٹریٹجک توازن پر بھی اثرانداز ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اگر انصاراللہ نے باب المندب پر مضبوط کنٹرول قائم کرلیا تو ایران اور اس کے اتحادیوں کی علاقائی پوزیشن مزید مستحکم ہوسکتی ہے، جس سے امریکہ اور اسرائیل کی خطے میں حکمتِ عملی کو بڑا دھچکا پہنچنے کا امکان ہے۔
لبنانی تجزیہ کار کے بقول، انصاراللہ کی حالیہ کامیابیوں نے ایران اور اس کے اتحادیوں کے ’’کارڈز‘‘ مزید مضبوط کردیئے ہیں۔
آپ کا تبصرہ