ترکیہ
-
اردوغان: مکہ معاہدہ عالم اسلام کے لیے اہم پیغام ہے، مثبت نتائج سامنے آئیں گے
ترک صدر رجب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکی نے مل کر عالم اسلام کے لیے ایک پیغام دیا ہے اور مکہ میں ہونے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ مستقبل میں مثبت نتائج کا باعث بنے گا۔
-
فیدان: شام کے عوام اپنے ملک کو محفوظ اور مستحکم بنانے کی کوشش کر رہے ہیں
ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے دمشق کے دو روزہ دورے کے اختتام پر کہا ہے کہ انقرہ شام کی وحدت اور سالمیت کی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یہ دیکھ کر خوشی ہوئی ہے کہ شامی عوام اپنی کوششوں سے ایک محفوظ، مستحکم اور ترقی یافتہ ملک کی تعمیر کی جانب بڑھ رہے ہیں جس میں معاشرے کے تمام طبقات اور گروہوں کے لیے جگہ ہو۔
-
اسرائیل شام کو غیر مستحکم کرنے کے درپے ہے:ترکی
ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل شام کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کی کارروائیاں پورے خطے کو متاثر کر رہی ہیں۔
-
معاہدہ مکہ مشکل سے دوچار
سہ فریقی دفاعی معاہدہ یمن کی دیوار سے جا ٹکرایا - 2
ایسے حال میں کہ "معاہدہ مکہ" کو وسیع پروپیگنڈے کے ساتھ خطے کے خطرات کے مقابلے میں ایک طاقتور دفاعی اتحاد کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا، یمن کی جاری صورت حال نے اس معاہدے کے نفاذ کو چیلنج کر دیا ہے۔
-
معاہدہ مکہ مشکل سے دوچار
سہ فریقی دفاعی معاہدہ یمن کی دیوار سے جا ٹکرایا - 1
ایسے حال میں کہ "معاہدہ مکہ" کو وسیع پروپیگنڈے کے ساتھ خطے کے خطرات کے مقابلے میں ایک طاقتور دفاعی اتحاد کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا، یمن کی جاری صورت حال نے اس معاہدے کے نفاذ کو چیلنج کر دیا ہے۔
-
یمن جنگ میں مکہ معاہدے کا پہلا امتحان؛ پاکستان اور ترکی کے کردار پر سوالات
سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے مکہ دفاعی معاہدے کو خطے میں کسی بھی رکن ملک پر حملے کی صورت میں مشترکہ دفاع کے لیے اہم اتحاد قرار دیا گیا تھا، تاہم یمن میں حالیہ پیش رفت نے اس معاہدے کی عملی افادیت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
-
ترکیہ کی فوجی پیش قدمی پر بغداد کی خاموشی، عراقی خودمختاری پر سوالات
شمالی عراق میں ترکیہ کی فوجی کارروائیاں اور پیش قدمی جاری ہے، جبکہ عراقی حکومت کی جانب سے ’’مکمل قومی خودمختاری‘‘ کے دعوے سوالات کی زد میں آگئے ہیں۔ سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ بغداد اور انقرہ کے درمیان ترک فوج کی موجودگی ختم کرنے کے لیے کسی سنجیدہ مذاکرات یا سفارتی رابطے کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔
-
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی کمیٹی کا استنبول میں پہلا اجلاس، تینوں ممالک کی عسکری و سیاسی قیادت کی شرکت
ترک وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان، ترکیے اور سعودی عرب کا اتحاد بین الاقوامی قانون پر مبنی ہے، ہمارا اتحاد کسی مخصوص ریاست کے خلاف نہیں ہے،۔
-
ترکیہ نے شامی سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کو ویزے سے استثنیٰ دے دیا
انقرہ: ترک صدر رجب طیب اردوغان نے صدارتی فرمان جاری کرتے ہوئے شامی سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کو ترکیہ میں داخلے کے لیے ویزا حاصل کرنے سے مستثنیٰ قرار دے دیا ہے۔ اس سہولت کا اطلاق سرکاری دوروں کے علاوہ سیاحتی اور ترکیہ سے گزرنے والے سفروں پر بھی ہوگا۔
-
کیا اسرائیل ترکی کو نیا دشمن بنانے کی راہ پر گامزن ہے؟
اسرائیل اور ترکی کے درمیان حالیہ ہفتوں میں بڑھتی کشیدگی اب محض سیاسی اختلافات تک محدود نہیں رہی بلکہ شام میں فوجی محاذ آرائی تک جا پہنچی ہے۔ اسرائیلی حلقوں میں ترکی کو ’’نئے ایران‘‘ کے طور پر پیش کیے جانے سے یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ آیا تل ابیب انقرہ کو ایک نئے تزویراتی خطرے کے طور پر متعارف کرانے کی کوشش کر رہا ہے۔
-
ترکیہ کی اپوزیشن کا مطالبہ: اسرائیل جانے والے تجارتی بحری جہاز فوری روکے جائیں
ترکیہ کی اپوزیشن جماعت ’’اچھی پارٹی‘‘ کے پارلیمانی دھڑے کے نائب سربراہ تورہان چومیز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان جاری تجارتی بحری آمدورفت فوری طور پر روکی جائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض بحری جہاز ترک بندرگاہوں سے اسرائیلی بندرگاہوں کی جانب روانہ ہو رہے ہیں۔
-
شام میں اسرائیلی حملوں پر ترکیہ خاموش کیوں ہے؟
شام کے ادلب میں ابو ال ظہور فوجی اڈے پر حالیہ اسرائیلی حملے کے بعد ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست تصادم کا خطرہ ایک بار پھر سامنے آیا ہے، تاہم انقرہ اور دمشق فی الحال تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے تل ابیب سے براہِ راست محاذ آرائی سے گریز کر رہے ہیں۔
-
اسرائیلی عہدیدار: شام میں ترکیہ کا فوجی وجود مضبوط نہیں ہونے دیں گے
اسرائیلی سکیورٹی عہدیدار نے کہا ہے کہ تل ابیب شام میں ترکیہ کی فوجی موجودگی مستحکم کرنے اور فوجی اڈے قائم کرنے کی کوششوں کی مخالفت کرے گا اور شام میں فضائی دفاعی نظام کی تنصیب کی بھی اجازت نہیں دے گا۔
-
روس: یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی پر امریکہ اور ترکی کی وضاحت کے منتظر ہیں
روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا ہے کہ ماسکو امریکہ اور ترکیہ سے یوکرین کو ممکنہ طور پر ہتھیاروں کی فراہمی کے بارے میں وضاحت کا منتظر ہے۔
-
صہیونی گماشتوں کی نمائشیں
مصر، قطر اور ترکیہ کا اسرائیل کے خلاف مشترکہ بیان اور 'اظہارِ تشویش'
مصر، قطر اور ترکیہ نے ایک مشترکہ بیان میں، غزہ پٹی میں صہیونی ریاست کے حالیہ حملوں کی "سخت الفاظ میں مذمت" کی ہے اور اس پٹی میں جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
-
اسرائیلی وزیر جنگ کی اردوان کو دھمکی، ترکیہ کو شام میں خطرناک مہم جوئی سے باز رہنے کا انتباہ
اسرائیلی وزیر جنگ یسرائیل کاٹز نے ترک صدر رجب طیب اردوان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ترکیہ شام میں خود کو ’’خطرناک مہم جوئی‘‘ کی طرف لے جا رہا ہے، اسرائیل اپنی سلامتی کے دفاع کے عزم کا امتحان لینے سے باز رہنے کا انتباہ بھی دیا۔
-
انقرہ: نیتن یاہو شام پر حملے کے لیے بہانے تراش رہا ہے
ترک صدارتی دفتر نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے شام سے متعلق الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل ان دعوؤں کو شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف غیر قانونی فضائی حملوں کا جواز بنانے کے لیے استعمال کررہا ہے۔
-
عراقچی: ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کا راستہ طے کریں گے
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے مناسب راستے کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔ انہوں نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن و سلامتی کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر بھی زور دیا۔
-
مصر نے مکہ معاہدے میں شمولیت کیوں اختیار نہیں کی؟
سابق ایرانی سفارت کار محمد حسین سلطانی نے کہا ہے کہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان مکہ میں ہونے والے سہ فریقی معاہدے میں مصر کی عدم شمولیت قاہرہ کی علاقائی حکمتِ عملی اور طاقت کے توازن کی پالیسی سے جڑی ہوئی ہے۔
-
سید جواد نقوی کا ’مکہ دفاعی معاہدے‘ میں ایران مخالف مؤقف اختیار کرنے پر پاکستان کو انتباہ
سید جواد نقوی نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کو ’مکہ دفاعی معاہدے‘ کے تحت ایران کے خلاف کسی بھی مؤقف کا حصہ نہیں بننا چاہیے اور معاہدے کی تمام شقوں کا بغور جائزہ لینے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کرنا چاہیے۔
-
ایران، پاکستان اور ترکی کے درمیان دوستی کی تاریخ دیرینہ ہے: بقائی
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دوستانہ تعلقات کی ایک طویل تاریخ ہے اور تہران کو ان دونوں ہمسایہ ممالک کے سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے معاہدے سے کسی قسم کی تشویش نہیں۔
-
ٹرمپ ترکی سے فوڈ ٹرک کے ذریعے فرار:واشنگٹن پوسٹ
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ترکی سے واپسی کے دوران سیکیورٹی خدشات کے باعث انتہائی خفیہ انداز میں صدارتی طیارے سے نکال کر ایک چھوٹے فوجی طیارے میں منتقل کیا گیا۔
-
جروزالم پوسٹ: مکہ دفاعی معاہدہ خطرناک ہے!
تل ابیب: اسرائیلی اخبار جروزالم پوسٹ نے سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان ہونے والے مشترکہ دفاعی معاہدے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ معاہدہ محض ایک فنی مفاہمت تک محدود نہیں بلکہ خطے کے تزویراتی اور سلامتی کے توازن کو تبدیل کر سکتا ہے۔
-
اسرائیل میں کھلبلی: مصر کی ’مکہ دفاعی معاہدے‘ میں شمولیت کا خدشہ، خطے کا طاقت کا توازن بدلنے کا امکان
اسرائیلی اخبار یدیعوت آحارانوت نے ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے میں مصر کی ممکنہ شمولیت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے اسرائیل کے لیے ایک بڑا اسٹریٹجک چیلنج قرار دیا ہے۔ اخبار کے مطابق قاہرہ کی شمولیت سے مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا موجودہ توازن نمایاں طور پر تبدیل ہوسکتا ہے اور کیمپ ڈیوڈ معاہدے بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔
-
دمشق کے قریب دھماکا؛ ترکیہ کے سفیر کی دہشت گرد حملے کی شدید مذمت
ترکیہ کے دمشق میں سفیر نوح یلماز نے دمشق کے نواحی علاقے جرمانا میں ہونے والے دہشت گرد دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام میں تشدد اور دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں۔ انہوں نے کہا کہ انقرہ شامی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور ملک میں پائیدار امن و استحکام کے قیام کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
-
ترکیہ: مکہ دفاعی معاہدہ علاقائی سلامتی اور اسٹریٹجک شراکت کے فروغ کی تاریخی پیش رفت ہے
ترکیہ کے نائب صدر اور صدارتی محکمہ اطلاعات کے سربراہ نے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کو علاقائی سلامتی کے استحکام اور دفاعی تعاون کے فروغ کی جانب ’’تاریخی قدم‘‘ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں بلکہ مشترکہ دفاع اور اجتماعی بازدارندگی کے اصول پر مبنی ہے۔
-
-
ترکی سے کشیدگی کے دوران اسرائیلی کابینہ نے آرمینیائی نسل کشی کو تسلیم کر لیا
اسرائیلی کابینہ نے 1915ء کے واقعات کو آرمینیائی نسل کشی قرار دینے کی منظوری دے دی، فیصلہ حتمی منظوری کے لیے کنیسٹ میں پیش کیا جائے گا۔
-
اردوغان: صہیونی نظریہ پوری ترک قوم کو نشانہ بنا رہا ہے
ترک صدر کا کہنا ہے کہ صہیونیت کا مقابلہ کسی سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ ترکی کی سلامتی، خودمختاری اور قومی بقا کا معاملہ ہے۔
-
اردوغان: اسرائیل کے خلاف ہمارا مؤقف ملک کی بقا کے لیے ہے
اردوغان کے مطابق صہیونی نظریہ قبضہ، جارحیت اور نسل کشی پر مبنی ہے اور یہ صرف کسی فرد یا جماعت تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک کے لیے خطرہ ہے۔