اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی بچی آوینا کی شہادت اس بات کی گواہی ہے کہ حالیہ حملوں میں صرف فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا امریکی دعویٰ درست نہیں۔
بقائی نے شیراز کے علاقے لامرد میں آوینا کی جائے شہادت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بچی گھر کے دروازے کے قریب کھیل رہی تھی کہ ایک میزائل کا شیل اس کے جسم کو لگا، جس کے بعد طبی کوششوں کے باوجود وہ جانبر نہ ہوسکی۔
ایرانی ترجمان نے آوینا کو امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں سے متاثرہ ایرانی شہریوں کی مظلومیت کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا نام آنے والی نسلوں کے لیے ایرانی عوام کی مزاحمت اور استقامت کی یاد بن جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے جنگ کے دوران ہونے والے جانی نقصانات اور مبینہ حملوں کے شواہد جمع کرنا شروع کردیئے تھے اور وزارت خارجہ نے متعلقہ دستاویزات عالمی سطح پر بھی پیش کی ہیں۔
بقائی کے مطابق ایرانی حکومت متاثرین کے حقوق کے حصول کے لیے ملکی عدالتوں اور بین الاقوامی قانونی اداروں سمیت تمام دستیاب ذرائع استعمال کرے گی۔
آپ کا تبصرہ