اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، تحریک بیداری امت مصطفیٰؐ کے سربراہ حجت الاسلام سید جواد نقوی نے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے مجوزہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے پاکستان کو ایران مخالف کسی بھی پالیسی کا حصہ بننے سے خبردار کیا ہے۔
سید جواد نقوی نے کہا کہ پاکستان کو ’مکہ دفاعی معاہدے‘ کی تمام شقوں کا بغور جائزہ لینا چاہیے اور یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ کہیں یہ معاہدہ خفیہ طور پر ایران کے خلاف تو مرتب نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اور بعض عرب ممالک کی کوشش ہے کہ پاکستان کو مغربی ایشیا کے تنازعات میں شامل کیا جائے اور اسے ایران کے خلاف جنگ کی جانب دھکیلا جائے۔
پاکستانی عالم دین نے مزید کہا کہ سعودی عرب، پاکستان کو علاقائی تنازعات میں شامل کرنے کے لیے اسلام آباد پر دباؤ ڈال رہا ہے، جبکہ بعض عرب ممالک مالی مراعات کے ذریعے پاکستان کی خارجہ پالیسی اور ایران کے بارے میں اس کے مؤقف پر اثرانداز ہونے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
سید جواد نقوی نے تاہم کہا کہ پاکستان نے اب تک خطے کے بعض دیگر ممالک کی طرح ایران کے خلاف اقدامات نہیں کیے اور اسلام آباد عمومی طور پر اپنے قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرتا ہے۔
انہوں نے ترکیہ کی شام میں سابقہ پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے مفادات کا خیال رکھتا ہے اور یہی سفارت کاری کا تقاضا ہے۔
مکہ دفاعی معاہدے کی اہم شقیں
سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان نیا دفاعی معاہدہ چار روز قبل مکہ مکرمہ میں طے پایا۔ ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی اس معاہدے کی اہم شقوں کے مطابق:
-
یہ معاہدہ دفاعی تعاون پر مبنی ہے اور کسی مخصوص ملک کو ہدف نہیں بناتا۔
-
تینوں ممالک میں سے کسی ایک کے خلاف مسلح حملے کو تینوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔
-
معاہدے کا مقصد علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے لیے اجتماعی دفاعی صلاحیت اور مشترکہ دفاعی ذمہ داریوں کو مضبوط بنانا ہے۔
-
یہ معاہدہ کسی موجودہ اتحاد یا معاہدے کو ختم نہیں کرتا بلکہ موجودہ دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔
-
ترکیہ کی نیٹو میں رکنیت اور علاقائی شراکت داریوں کو ایک دوسرے کا متبادل نہیں بلکہ باہم معاون قرار دیا گیا ہے۔
-
معاہدے کو کسی جارحانہ فوجی محاذ، کسی ملک کو محدود کرنے یا حملے کے منصوبے کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔
-
معاہدہ کسی ملک کو نشانہ نہیں بناتا اور موجودہ سفارتی مذاکرات کے دروازے بند نہیں کرتا۔
-
معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور تینوں ممالک کے باہمی دفاع کے ساتھ ساتھ دفاعی صنعت میں تعاون اور مشترکہ صلاحیتوں میں اضافے پر بھی زور دیتا ہے۔
آپ کا تبصرہ