23 اگست 2026 - 22:08
ایرانی ڈرونز سے امریکہ کی گھبراہٹ؛ اسٹارٹ اپ کمپنیاں میدان میں آگئیں

امریکہ اور اس کے اتحادی، ایرانی ڈرونز کے حملوں سے عاجز آ چکے ہیں، جس کے باعث وہ اب جدید ترین اسٹارٹ اپ کمپنیوں کا سہارا لے رہے ہیں تاکہ ایرانی ایم آئی ویز (Micro Air Vehicle [ MAV] ) کا سستا اور مؤثر جواب دے سکیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اس سلسلے میں فلوریڈا میں قائم امریکی کمپنی "پاورس (Powerus)" متحرک ہے، جس نے امارات میں سستے انٹرسیپٹر میزائلوں کی پیداوار شروع کر دی ہے۔ یہ انٹرسیپٹرز خاص طور پر 200 میل فی گھنٹہ کی رفتار تک جانے والے ایرانی ڈرونز کو نشانہ بنانے کیلئے بنائے جا رہے ہیں۔

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ وہ ماہانہ 3000 انٹرسیپٹرز تیار کر رہی ہے اور 2027 کے وسط تک عالمی سطح پر ماہانہ 15000 انٹرسیپٹرز تک پیداوار بڑھانے کا ہدف رکھتی ہے۔

امریکہ کی اتحادی ممالک، ـ خاص طور پر خلیج فارس کی عرب ریاستیں، ـ ایرانی ڈرونز کی بڑھتی ہوئی طاقت کے پیشِ نظر مقامی سطح پر انٹرسیپٹر تیار کرنے پر مجبور ہو گئی ہیں، کیونکہ اسلحے کے امریکی ذخائر شدید قلت کا شکار ہیں۔

اس صورتحال نے امریکی دفاعی کمپنیوں کو سستے اور مشترکہ پیداوار پر توجہ دینے پر مجبور کیا ہے، تاکہ ایرانی ہتھیاروں سے نمٹنے کے اخراجات کو کم کیا جا سکے، جبکہ ایران انتہائی کم قیمت پر مہنگے امریکی اسلحے اور گولہ بارود کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اسٹارٹ اپس کے ان انٹرسیپٹرز کی افادیت کے بارے میں کوئی خاص اطلاعات دستیاب نہیں ہیں۔

صرف پاورس ہی نہیں، بلکہ مشہور کمپنی "ریتھون (Raytheon) " نے بھی امارات میں اپنے "کائیوٹ (Coyote)" انٹرسپیٹرز تیار کرنے کا اعلان کیا ہے، جن میں سے ہر ایک کی قیمت تقریباً 126500 ڈالر بتائی جاتی ہے جو سستے ایرانی ڈرونز سے پھر بھی آٹھ گنا زیادہ مہنگے ہیں۔

اس کے برعکس، کیلیفورنیا کی اسٹارٹ اپ "نیروس (Neros)" نے ایک نیا انٹرسیپٹر "بینڈٹ (Bandit)" متعارف کرایا ہے جس کی بنیادی قیمت صرف 5000 ڈالر ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی صنعت ایرانی ڈرونز کے چیلنج کا سستے متبادل کے ذریعے مقابلہ کرنے کی دوڑ میں لگ گئی ہے، جس کا انجام ابہام سے دوچار ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha