بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || سیاسی تجزیہ کار اور سی آئی اے کے سابق افسر لیری جانسن نے پریس ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: ایران امریکی طاقت کے مقابلے میں ڈٹ گیا اور حوثیوں نے امریکہ کو واضح طور پر شکست دی / ایران نے امریکی فوجی طاقت کے بڑے حصوں کا مؤثر مقابلہ کیا ہے اور اس جنگ کے دوران امریکہ کے اہم اڈوں، اصلی مواصلاتی سسٹمز اور اہم ریڈار سائٹس کو نشانہ بنایا ہے اور امریکہ کو عملی اور مؤثر طور پر خلیج فارس سے پسپائی پر مجبور کیا ہے؛ ایک ایسا واقعہ کہ میں نہیں سمجھتا کہ دو سال قبل کوئی اس کی پیش گوئی کر سکتا تھا۔
ویڈیو کی تفصیل:
فی الحال میں ایسا کوئی بڑا خطرہ نہیں دیکھ رہا کہ چین یا روس مجبور ہوکر امریکہ کے خلاف جنگ میں براہ راست داخل ہونے پر مجبور ہوجائيں جس میں ایران اور مغربی ایشیا بھی اس میں شامل ہوں۔
سچائی سے کہتا ہوں کہ لگتا ہے کہ ایران خود دوسروں کی مدد کے بغیر اس صورت حال سے نمٹنے کی طاقت رکھتا ہے، گوکہ بدستور اسلحے اور سازو سامان اور انٹیلی جنس کی فراہمی میں، چین اور روس کو، ایران کی مدد کرنا پڑے گی۔ بالخصوص میرے خیال میں چین نے "بیڈو" سسٹم (جی پی ایس کے بجائے) فراہم کرکے اہم کردار ادا کیا ہے؛ وہ سسٹم جو ایرانی میزائلوں کی اہداف کی طرف گائیڈنس کے لئے کام آتا ہے۔ [!]
چنانچہ امریکہ کے ایک جنگ میں پھنسنے کا بڑا خطرہ، روس اور یوکرین سے تعلق رکھتا ہے۔ وہاں جنگ کا دائرہ پھیل جانے اور روس کی براہ راست داخلے کا خطرہ، زیادہ ہے۔
دنیا کو درپیش فوجی آپشنز نے واضح کیا ہے کہ امریکہ کی طاقت واضح طور پر محدود ہے۔
ہم نے گذشتہ چار سالہ دور میں تین اہم واقعات دیکھے ہیں:
1۔ روس کے ساتھ جنگ میں یوکرین کے تئیں امریکہ کی حمایت؛
2۔ حوثیوں کو شکست دینے اور بحیرہ احمر کو دوبارہ قابو کرنے کے لئے "خوشحالی کا نگہبان (Prosperity Guardian)" اور "تشدد پسند سوار (Rough Rider)" نامی کاروائیوں کے ذریعے امریکی کوششیں؛
3۔ ایران پر حملہ۔
تینوں واقعات میں آشکار ہوچکا ہے کہ امریکہ کی فوجی طاقت محدود ہے۔
میرے خیال میں، ان واقعات سے پہلے، افغانستان اور عراق میں امریکی شکست کے پس منظر کے باوجود، بہت سے ممالک سمجھتے تھے کہ امریکہ کو شکست دینا تقریباً ناممکن ہے۔
اس کے باوجود، یہ تصور پایا جاتا تھا کہ امریکہ فوجی لحاظ سے اس قدر طاقتور ہے کہ کوئی بھی ملک اس کا سامنا کرنے کی جرأت نہیں کرے گا۔ لیکن جو کچھ حوثیوں نے کرکے دکھایا، یہ تھا کہ وہ ـ خاص طور ٹرمپ کے دور میں ـ سات ہفتوں کے ایک دورانئے میں، امریکہ کے برابر، کھڑے ہو گئے اور آپریشن Rough Rider میں امریکہ کو شکست دی۔
اس وقت بھی ہم ایران کے بارے میں اسی صورت حال کو دیکھ رہے ہیں۔
ایران نے امریکی فوجی طاقت کے بڑے حصوں کا مؤثر مقابلہ کیا ہے اور اس جنگ کے دوران امریکہ کے اہم اڈوں، اصلی مواصلاتی سسٹمز اور اہم ریڈار سائٹس کو نشانہ بنایا ہے اور امریکہ کو عملی اور مؤثر طور پر خلیج فارس سے پسپائی پر مجبور کیا ہے؛ ایک ایسا واقعہ کہ میں نہیں سمجھتا کہ دو سال قبل کوئی اس کی پیش گوئی کر سکتا تھا۔
لہذا اس وقت ہمیں بالکل مختلف صورت حال کا سامنا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ