بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || آیت اللہ جوادی آملی "حیاتِ عمل (عمل کی زندگی)" پر زور دیتے ہوئے کہتے ہیں: "انسان اپنے آپ سے خیانت نہیں کر سکتا؛ کوئی عمل کبھی ضائع نہیں ہوتا۔"
چنانچہ ہم جو بات کرتے ہیں، جو رویہ اپناتے ہیں اور جو اثر ہم دوسرے کے دل پر ڈالتے ہیں، وہ وقت گذرنے کے ساتھ ختم نہیں ہوتا؛ ممکن ہے آج ہم اسے بھول جائیں، لیکن اس کا اثر برسوں بعد ہماری یا دوسروں کی زندگی میں ظاہر ہو سکتا ہے۔
اگر ہم نے کسی دل کو توڑا، اگر ہم نے کسی حق کو نظر انداز کیا، یا کسی کو اپنی بات سے کسی کی دل آزاری کی، تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ "گذر گیا اور ختم ہو گیا"؛ کیونکہ ہر عمل زندگی کی "پیداواری لائن" میں داخل ہو جاتا ہے اور نئے نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
یہ نقطہ نظر ہماری سماجی ذمہ داری کے بارے میں ایک سنجیدہ تنبیہ ہے؛ خاص طور پر جب کچھ تفرقہ انگیز باتیں اور رویئے ہمدردی کے جذبات اور بھائی چارے اور اتحاد و یکجہتی کو مضبوط کرنے کے بجائے، معاشرے کو منقسم ہونے کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔
اتحاد و یکجہتی کے منافی باتیں، دوسروں کی کردار کُشی اور وہ رویئے جو معاشرے کی یکجہتی کو نقصان پہنچاتے ہیں، محض چند جملے یا ایک لمحاتی ردعمل نہیں کے زمرے میں نہیں آتے؛ ہر بات دوسروں کے ذہن اور رویئے پر اثر ڈال سکتی ہے اور نتائج کا ایک سلسلے کو جنم دے سکتی ہے۔
لہٰذا ہمیں اپنی باتوں اور رویوں کا خیال رکھنا چاہئے؛ کچھ بھی اتنی آسانی سے "نہیں گذرتا"۔ جو ہم آج کہتے اور کرتے ہیں، وہ ہمارے معاشرے کے کل کا حصہ بنا دیتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ