بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ٹرمپ نے ایران میں بلوائیوں کی حمایت، کہا: "جاؤ لڑو میں تمہارا حامی ہوں"، ابھی کوئی مسلحانہ حملہ ہؤا ہی نہیں تھا کہ ٹرمپ نے کہا: "اگر ایران نے کسی احتجاجی کو مارا تو ہم ایران پر حملہ کریں گے"، کہا: "جاؤ لڑو ہماری مدد پہنچ رہی ہے"، لیکن ایک دفعہ جب پوچھا گیا کہ "ایران میں کچھ لوگ مارے گئے ہیں آپ کا وعدہ کیا ہؤا؟ بولے: "کچھ لوگ بھیڑ میں کچلے گئے ہیں، جن کے لئے میں کسی کو ملزم نہیں ٹہرا سکتا!"؛ دوسری مرتبہ پوچھا گیا تو بولے: "کچھ لوگوں نے سیکورٹی فورسز پر فائرنگ کی تھی، فورسز نے بھی جوابی فائرنگ کی جس سے کچھ لوگ ہلاک ہوئے؛ بات صرف اتنی ہی تھی۔" تیسری مرتبہ پوچھا گیا: "آپ نے حملے کا منصوبہ بنایا اور سنا ہے کہ اسرائیل اور سعودی عرب نے آپ کو قائل کرلیا کہ یہ حملہ نہیں ہونا چاہئے"، بولے: "میں نے خود ہی خود کو قائل کر لیا"؛ لیکن حقیقت کیا ہے اور امریکہ اپنے اعلان کردہ حملے سے کئی مرتبہ کیوں پیچھے ہٹا؟
ٹرمپ ایران پر حملے سے پسپا ہؤا لیکن کیوں؟ جواب جاننے کے لئے ریٹائرڈ اسرائیلی جنرل اسحاق بریک کی تحریر کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے:
ٹرمپ خطے میں بڑے پیمانے پر جنگ سے خوفزدہ ہے / وہ اپنی بقاء کی خاطر پسپا ہوگیا
صہیونی فوج کے سبکدوش جنرل اسحاق بریک نے ایران پر حملے کے ٹرمپ کے اعلان کی وجوہات بتاتے ہوئے اس جنگ کے نتائج اور ان کے اقتدار کو درپیش خطرات کو ان کی پسپائی کا سبب قرار دیا۔
ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے کئی مرتبہ ایران کو جنگ اور حملے کی دھمکی دی لیکن آخرکار اس نے اچانک اعلان کیا کہ وہ ایران پر حملے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ یہ اعلان محتلف قسم کے رد عمل کا سبب بنا، ایران کے دشمنوں اور خاص طور پر پہلوی کے ٹولے، علیحدگی پسندوں اور ملک کی تقسیم کے لئے ناکام کوششیں کرنے والے دہشت گرد ٹولے بہت ناراض ہوئے، کچھ ایرانی وطن فروشوں نے تو یہ تک بھی کہہ دیا کہ ٹرمپ ایران نواز بن گیا ہے۔ ادھر مقبوضہ فلسطین میں بھی یہ اعلان ملے جلے رد عمل کا باعث ہؤا اور صہیونی تجزیہ کاروں نے اپنے اپنے نقطہ نظر سے اس اعلان کا تجزیہ کیا۔
سبکدوش اسرائیلی جنرل اسحاق بریک بھی ان ہی تجزیہ کاروں میں سے ایک ہے جس نے ایران پر کے اعلان سے ٹرمپ کی پسپائی کا سبب بیان کرتے ہوئے لکھا:
ایران کے خلاف ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبہ بند حملے کو مؤخر یا منسوخ کرنے کا فیصلہ صرف شک و تذبذب کی وجہ سے نہیں بلکہ اس جنگ سے معرض وجود میں آنے والے فوائد اور خطرات کے بارے میں پورے حوصلے کے ساتھ سوچ بچار اور جانچ پرکھ کا نتیجہ تھا۔ لگتا ہے کہ ٹرمپ ـ جس نے اپنی پالیسی "America first" کی بنیاد پر مرتب کی ہے ـ نے اپنے فیصلوں مین کلیدی کردار ادا کرنے والے ـ تین عوامل کا صحیح ادرا کرتے ہوئے عمل کیا ہے:
1۔ فضائی طاقت کی محدودیت اور ایران میں حکومت بدلنے کا مسئلہ
ٹرمپ بخوبی جانتا ہے کہ فضائی طاقت خواہ جتنی ہی نمایاں کیوں نہ ہو، بنیادی سیاسی تبدیلیاں پیدا کرنے کے حوالے اس کی صلاحیت محدود ہے اور امریکہ کے پاس ایسی کوئی طاقت نہیں ہے اور اس کے مقابلے میں ایران بھی زبردست جارحانہ صلاحیت رکھتا ہے اور دفاعی صلاحیت بھی، اور اپنا دفاع کرنے اور امریکی مفادات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
مغربی ایشیا میں جنگوں کی تاریخ گواہ ہے کہ فضائی حملے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر سکتے ہیں لیکن یہ عام طور پر ملکی عوام کو ـ بیرونی جارحوں کے خلاف ـ اپنی قیادت کے ارد گرد متحد کر دیتے ہیں؛ اور حکومت کے خلاف ممکنہ اندرونی تحریکوں کا گلا گھونٹ سکتے ہیں۔
2۔ بڑے پیمانے پر علاقائی جنگ کا خوف
کسی بھی فیصلے کو اوپر ایک علاقائی جنگ کا دبیز سایہ منڈلا رہا ہے۔ ٹرمپ کو خدشہ ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی جنگ کی چنگاری ایسی جنگ کی آگ بھڑکا سکتی ہے جو عراق، لبنان، شام، "اسرائیل" اور خلیج فارس کی عرب ریاستوں تک پھیل جائے گی۔ ایسی صورت حال میں امریکہ ایک بار پھر ـ مغربی ایشیا میں ـ ایک نہ ختم ہونے والی جنگ کے بھنور میں دھکیلا جائے گا؛ ایسا منظرنامہ جسے ـ بہر قیمت ـ روکنے کا ٹرمپ نے اپنے ووٹروں کو وعدہ دیا تھا۔
ایسی جنگ نہ صرف انسانی جانوں اور لا متناہی ذرائع کو خطرے میں ڈالے گی، بلکہ ٹرمپ کی بین الاقوامی تصویر (ساکھ) کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچائے گی اور اس کو ایک ایسے شخص کے طور پر پیش کرے گی جسے اپنے بنیادی ترین انتخابی وعدہ کو پامال کر دیا ہے۔
چنین جنگی نه تنها جان انسانها و منابع هنگفتی را به خطر میاندازد، بلکه به جایگاه بینالمللی رئیسجمهور ترامپ نیز آسیب جدی وارد میکند و او را به عنوان کسی که اساسیترین وعده انتخاباتی خود را نقض کرده است، به تصویر میکشد.
3۔ اندرون ملک، مڈٹرم انتخابات اور مؤاخذے کا عمل
اندرونی سیاسی تحفظات، وائٹ ہاؤس کے فیصلوں میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ ٹرمپ کانگریس کے درمیانی مدت کے اگلے انتخابات کو مدنظر رکھ کر، اس مسئلے سے آگاہ ہے کہ ایوان نمائندگان میں اکثریتی نشستوں سے محرومی، ڈیموکریٹ جماعت کو مواخذے کا قانونی اوزار فراہم کرے گا۔
ایک ہی سیکورٹی یا اقتصادی دھچکا (جیسے جنگ کے بعد تیل کی قیمت میں اضافہ) تیرتے ہوئے (غیر جماعتی) ووٹوں (Floating Votes) ڈیموکریٹس کی طرف منتقل کرے گا، اور ٹرمپ کی سماجی پوزیشن کو کمزور کرے گا، اور یہ اس کی حکمرانی کے لئے براہ راستہ خطرہ بن سکتا ہے۔
ساکھ بمقابلہ اقتدار کی بقاء، ٹرمپ کس کا انتخاب کرے گا؟
ٹرمپ جب موجودہ معلومات کو جانچتا ہے، سمجھتا ہے کہ ایران پر حملہ ایک بڑا سیاسی اور تزویراتی جوا ہے۔ اگر ناامید کرنے والی پیش گوئیاں عملی صورت اپنائیں، تو دنیا میں بھی اور امریکہ میں بھی اس کی ساکھ گر جائے گی اور ممکن ہے کہ اس کا موجودہ دورہ اقتدار مکمل ہونے سے قبل ہی اختتام پذیر ہوجائے۔
اگرچہ بہت سوں نے استدلال کیا کہ ٹرمپ کو خدشہ تھا کہ لوگ اس کو باراک اوباما سے تشبیہ دیں جو عمل نہيں کرتا تھا: سرخ لکیریں متعین کرتا تھا لیکن عملی اقدام نہیں کرتا تھا، اسی لئے اس نے اپنا عسکری رویہ ترک نہیں کیا، لیکن لگتا تھا کہ ٹرمپ کی ترجیحات مختلف ہیں۔
ٹرمپ کے پاس صرف دو ہی راستے ہیں یا "اپنی ساکھ کے مجروح ہونے" یا "مؤاخذے کا شکار ہونا، اقتدار کھو دینے" کے درمیان پہلے راستے کو منتخب کرے گا۔ وہ سمجھتا ہے کہ اگر اس کی اپنی ساکھ کو نقصان پہنچے تو اس کی تلافی کرنا ایک مؤثر میڈیا کمپین (یا ابلاغی و تشہیری مہم)یا ایک قتصادی کامیابی کے ذریعے ممکن ہے۔ لیکن اگر وہ مؤاخذے کا شکار ہوجائے اور اقتدار سے محروم ہوجائے تو اقتدار میں پلٹ آنے کا کوئی موقع باقی نہيں رہے گا۔
نکتہ:
اسحاق بریک کے تجزیۓ سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکی سطلنت اس قدر گراوٹ کا شکار ہوئی ہے کہ اس کے فیصلے اب ایک صدر کے ذاتی مفاد کے گرد گھومتے ہیں، حملے کا فیصلہ ہو یا حملے کے فیصلے سے پسپائی کا فیصلہ ہو۔ اور یہ کہ ایران کا رد عمل ٹرمپ کے لئے اس قدر خوفناک تھا کہ اس نے پہلی بارے کسی جنگ اور جارحیت کا فیصلہ واپس لیا ہے، کیونکہ ایران کے رد عمل کے نتیجے میں امریکی مفادات کو پہنچنے والا ٹرمپ کے مستقبل کو تیرہ و تار کر سکتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
mshrgh.ir/1779675
آپ کا تبصرہ