بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اس رپورٹ کے مطابق، ایران کے طاقتور میزائل اور ڈرون حملوں میں ہینگروں، سپاہیوں کے کوارٹروں، ایندھن کے ذخائر، جنگی طیاروں اور جدید دفاعی نظاموں کو نشانہ بنایا ہے۔ اس مضمون کے قابلِ غور عناصر یہ ہیں:
1- دفاعی نظامات کے نقائص:
انٹرسیپٹر میزائلوں کی زیادہ کھپت (مختصر مدت میں 53 فیصد تھاڈ میزائلوں کے ذخیرے کا استعمال) اور جدید ڈرون جنگ سے عدم مطابقت، اس تنازع میں امریکی فوج کی کمزوریوں کے طور پر پیش کی گئی ہے۔
تجزیئے کے چونکا دینے والے نکات میں سے ایک مہنگے پیٹریاٹ اور تھاڈ میزائلوں کے ذخائر کا تیزی سے خاتمہ ہے۔ ایران نے سستے کامیکازے ڈرونز استعمال کرتے ہوئے کروڑوں ڈالر کے امریکی دفاعی نظامات کو ایک فرسودہ کرنے والی جنگ سے دوچار کر دیا ہے جسے معاشی اور رسد کے لحاظ سے امریکیوں کے لئے جاری رکھنا، ممکن نہیں ہے۔
2- غیر متناسب حکمتِ عملی کی افادیت:
جدید مغربی آلات اور وسائل پر ایران کے مقامی ڈرونز اور میزائلوں کا غلبہ، خود اعتمادی اور خود کفالت کی اندرونی صلاحیتوں پر انحصار کے نظریئے کو صحیح، ثابت کرتا ہے۔ فرسودہ کردینے والی جنگ (War of attrition) میں، ایران کے سستے ہتھیاروں کے مقابلے میں امریکیوں کے کھربوں ڈالر کے انٹرسیپٹرز کی ناکامی، ایک معاشی-عسکری فتح ہے۔
اس مضمون میں (مارک کینسیئن Mark Cancian) جیسے فوجی تجزیہ کار زور دیتے ہیں کہ ایران "بے تحاشا فائرنگ" کے مرحلے سے "درست نشانہ زنی" کے مرحلے پر پہنچ گیا ہے۔
نفری کی تعیناتی والی والی عمارتوں کو نشانہ بنانے سے ایران کی طرف سے امریکہ کو پسپائی پر مجبور کرنے کے لئے زیادہ جانی نقصان پہنچانے کی نیت کا اظہار ہوتا ہے۔
3۔ ابلاغیاتی تحریف:
واشنگٹن پوسٹ کی کوشش ہے کہ ایران کی کامیابیوں کا کچھ حصہ روسی انٹیلیجنس سے منسوب کر دے تاکہ ایران کے مقامی عسکری سائنسی اور تکنیکی خود مختاری پر سوال اٹھا سکے، جبکہ ایران کی انٹیلیجنس مہارت جدید مقامی ٹیکنالوجی اور تجربہ کار انسانی قوت کے استعمال سے کئی دہائیوں کی دقیق نگرانی کا نتیجہ ہے۔
یہ رپورٹ بخوبی بیان کرتی ہے کہ "خفیہ کاری" کا دور ختم ہو چکا ہے اور میدانِ جنگ ایران کے درست نشانے پر لگنے والے میزائلوں اور ڈرونز کے لئے مکمل طور پر شفاف ہو چکا ہے۔
4- علاقے میں امریکی سیکورٹی چھتری ٹوٹ گئی:
امریکی افواج کا انخلا اور پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر کی فلوریڈا منتقلی، امریکی اڈوں کے میزبان ممالک کے لئے واضح لمحۂ فکریہ ہے اور کھلا پیغام ہے کہ ایران کی حقیقی طاقت کے مقابلے میں امریکہ کی حمایتی چھتری تباہ ہو چکی ہے۔ یہ معاملہ غیر ملکی مداخلت کے بغیر اندرونِ علاقائی سیکورٹی تعاون کی ضرورت کو مزید عیاں و نمایاں کرتا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ تصدیق کرتی ہے کہ امریکی فوج ایران کی جدید جنگی حکمتِ عملیوں (درست معلومات، سستے ڈرونز اور درست نشانے پر لگنے والے میزائلوں کے مجموعے) کے سامنے حیرت زدہ رہ گئی ہے اور مغربی ایشیا میں مستقل تنصیبات کے تحفظ کے لئے روایتی دفاعی حکمتِ عملیاں مزید کارآمد نہیں رہی ہیں۔
یہ رپورٹ اسلامی جمہوریہ ایران کی فعال ڈیٹرنس صلاحیت کے حقیقت کا روپ دھارنے کی دستاویز ہے۔ جب پانچویں بحری بیڑے کا کمانڈ ہیڈکوارٹر علاقے سے بھاگنے کو ترجیح دیتا ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ مزاحمت کا جغرافیہ مداخلت پسندانہ غیر ملکی موجودگی کی لاگت کو قابضین کے لئے ناقابلِ برداشت حد تک بڑھانے میں کامیاب ہؤا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حسن عابدینی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ