21 جولائی 2026 - 14:58
ایران کے خلاف میڈیا وار کے پس پردہ عوامل؛ 250 میڈیا آؤٹ لیٹس دشمن کی نفسیاتی جنگ میں مصروف

سیاسی امور کے ماہر و تجزیہ کار ڈاکٹر حسن ہانی زادہ، نے مرکب اور ادراکی جنگ کو استکباری طاقتوں کا ایک اہم ترین ہتھیار قرار دیا اور زور دے کر کہا کہ اس قسم کی جنگ، رائے عامہ کو نشانہ بنانے، فہم و ادراک کو تبدیل کرنے اور باطل کو حق کے بھیس میں پیش کرنے کی کوشش کے باعث، فوجی اور میدانی جنگ سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔

خبرگزاری بین‌المللی اہل‌بیت(ع) ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، سیاسی امور کے ماہر و تجزیہ کار ڈاکٹر حسن ہانی زادہ، نے ابنا سے گفتگو کرتے ہوئے مرکب اور ادراکی جنگ (Hybrid & Cognitive Warfare) کو استکباری طاقتوں کا ایک اہم ترین ہتھیار قرار دیا اور زور دے کر کہا کہ اس قسم کی جنگ، رائے عامہ کو نشانہ بنانے، فہم و ادراک کو تبدیل کرنے اور باطل کو حق کے بھیس میں پیش کرنے کی کوشش کے باعث، فوجی اور میدانی جنگ سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ، مغربی ممالک، صہیونی لابی اور صہیونی ریاست نے پچھلی کئی دہائیوں میں اس طریقہ کار سے وسیع پیمانے پر فائدہ اٹھایا ہے اور ہزاروں ذرائع کا اختیار اپنے ہاتھ میں لے کر مختلف اقوام ـ بالخصوص مسلمان اقوام ـ اقوام کے خلاف ماحول سازی کر رہے ہیں۔

انھوں نے خطے کی صورتحال اور محورِ مقاومت (محاذ مزاحمت) اور مظلوم اقوام کی حمایت میں اسلامی جمہوریہ ایران کے کردار و مقام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صہیونی ریاست نے خطے کی بعض حکومتوں کے تعاون سے، ایران کے خلاف نفسیاتی اور ابلاغیاتی جنگِ کے لئے سینکڑوں بصری، سمعی اور ورچوئل آؤٹ لیٹس استعمال کئے ہیں۔ ہانی زادہ کے مطابق، ان ذرائع نے گذشتہ برسوں میں عوام اور حکومت کے درمیان شگاف ڈالنے کی کوشش کی ہے، مگر داخلی وحدت، ایرانی قوم کی استکباری طاقتوں کی سازشوں سے  آگاہی، اور اسلامی جمہوریہ کی تسدیدی صلاحیت (Deterrence) نے ان ماحول سازیوں کو ناکام بنایا ہے۔

سیاسی امور کے اس تجزیہ کار نے کہا ادراکی جنگ، اقتصادی، سماجی، سیاسی، سیکورٹی، ثقافتی، ابلاغی اور نفسیاتی جہات پر محیط ہے، اور دشمن ان تمام اوزاروں کو معاشرے میں انتشار پھیلانے، عمومی بداعتمادی اور سماجی سرمائے کو کمزور کرنے کے لئے استعمال کرتا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اس جنگ کا مقابلہ ابلاغی، سیاسی، سماجی اور میدانی تجزیئے اور گہری شناخت کا متقاضی ہے، اور مختلف عوامل ـ بشمول قومی وحدت، فوجی قوت و صلاحیت، سماجی ہم آہنگی اور عوام کی آگاہی کے بدولت دشمن کی ادراکی، سیکورٹی، ابلاغی جنگ لاحاصل رہی اور نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئی۔

ہانی‌زادہ نے دشمن کی ترکیبی کاروائیوں کو بے اثر کرنے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے قومی ذریعۂ ابلاغ (IRIB) اور عوامی موجودگی کو فیصلہ کن قرار دیا اور کہا کہ قومی ذریعۂ ابلاغ نے اطلاعات کی فراہمی، رائے عامہ کی راہنمائی، مخالف ذرائع کا مقابلہ کرنے، اور قومی جذبے کو برقرار رکھنے میں مؤثر کردار ادا کیا ہے۔

انھوں نے افواہوں کے خلاف عوام کی سرگرم موجودگی، اجتماعی و سماجی سکون برقرار رکھنے اور مسلح افواج کے ساتھ ہم آہنگی کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ دشمن اب بھی میڈیا اور نفسیاتی کاروائیوں کے ذریعے معاشرے میں بد اعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، مگر ایرانی قوم ـ جس طرح ماضی کی متعدد سازشوں کو ناکام بنا چکی ہے، ـ وحدت و یکجہتی کو برقرار رکھتے ہوئے، سرکاری اداروں اور مسلح افواج کی حمایت اور قومی یکجہتی پر بھروسہ کرتے ہوئے، اس مرحلے سے بھی کامیابی کے ساتھ عہدہ برآ ہوگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha