اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، یمن کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی وزارت خارجہ کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاض اب بھی یمن کو اپنے زیرِ اثر علاقہ سمجھتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اگر سعودی عرب واقعی یمن کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے تو اسے فوری طور پر یمن سے مکمل انخلا کا اعلان کرتے ہوئے جارحیت اور محاصرہ ختم کرنا چاہیے۔
وزارت نے الزام لگایا کہ سعودی عرب اب بھی یمن میں خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی اشیائے ضروریہ کی ترسیل میں رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے، جس کے باعث انسانی بحران مزید سنگین ہو رہا ہے۔
بیان کے مطابق گزشتہ 12 برسوں کے دوران سعودی عرب کی فوجی کارروائیوں میں ہزاروں شہری، خصوصاً خواتین اور بچے، شہید ہوئے اور یمنی عوام ان قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔ وزارت خارجہ نے دعویٰ کیا کہ اس عرصے میں یمن پر تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار فضائی حملے کیے گئے، جن سے ملک کو 500 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچا۔
وزارت نے جنوبی یمن کے بعض صوبوں میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اختلافات کو اس بات کا ثبوت قرار دیا کہ یمن کے بعض علاقوں پر اب بھی بیرونی قبضہ برقرار ہے اور وہاں کے تیل و معدنی وسائل پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
یمن کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان کے اختتام پر خبردار کیا کہ موجودہ پالیسیوں کا تسلسل سعودی عرب کے مفاد میں نہیں ہوگا بلکہ اس کے نتائج اور ذمہ داریاں مزید بڑھیں گی۔ وزارت نے کہا کہ امن کی راہ اختیار کرنا، جارحیت کا خاتمہ اور محاصرہ اٹھانا، تنازع کو جاری رکھنے کے مقابلے میں کہیں کم قیمت رکھتا ہے، جبکہ یمنی عوام کسی بھی صورت اپنی آزادی، خودمختاری اور جائز حقوق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔
آپ کا تبصرہ