اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، جموں و کشمیر کی انجمنِ شرعی شیعیان کے صدر حجت الاسلام والمسلمین سید حسن موسوی نے ابنا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاشی چیلنجز دنیا کے بہت سے ممالک میں ایک عام حقیقت ہیں اور انہیں کسی قوم کے خلاف سیاسی دباؤ یا منظم پروپیگنڈے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ آج کی دنیا کے مسائل کو بنیاد بنا کر سیاسی و معاشی دباؤ ڈالنا پیشہ ورانہ اور اخلاقی اصولوں کے منافی ہے۔
انہوں نے مداخلت پسند طاقتوں کے اقدامات پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خودمختار ممالک کے داخلی امور میں مداخلت، بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی طور پر تسلیم شدہ اقدار کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
سید حسن موسوی نے برسوں سے ایران کے خلاف امریکا کی مداخلت پسند پالیسیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ان اقدامات کی شدید مذمت کی اور کہا کہ یہ رویہ استکباری سوچ کا نتیجہ ہے جسے دنیا کی اقوام قطعی طور پر مسترد کرتی ہیں۔
انہوں نے ایران کے خلاف مغرب کی وسیع نفسیاتی اور ابلاغی جنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ ایران کی حقیقی صورتِ حال کے بارے میں عالمی سطح پر آگاہی پیدا کی جائے اور استکباری میڈیا و پروپیگنڈا نیٹ ورکس کا مؤثر مقابلہ کیا جائے۔
حجت الاسلام موسوی نے کہا کہ مغرب اور عالمی استکبار کا پروپیگنڈا یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا ہے کہ ایرانی عوام ولایتِ فقیہ سے دور ہو رہے ہیں، حالانکہ یہ دعوے بے بنیاد اور زمینی حقائق کے منافی ہیں۔ ان کے بقول حالیہ عوامی اجتماعات میں لوگوں کی بھرپور شرکت نے واضح کر دیا ہے کہ ایرانی قوم آج بھی نظامِ ولایتِ فقیہ اور رہبرِ معظم پر مکمل اعتماد رکھتی ہے۔
انہوں نے ایرانی قوم اور امتِ مسلمہ کی حمایت کو خالص، مضبوط اور گہری جڑوں والی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی بنیاد چودہ صدیوں پر محیط اسلامی اقدار کی مسلسل پاسداری میں ہے۔
صدر انجمنِ شرعی شیعیانِ جموں و کشمیر نے حساس مواقع پر رہبرِ معظم انقلاب کی بصیرت اور حکمت کو امید، اطمینان اور قومی یکجہتی کا بنیادی سرچشمہ قرار دیا اور اعتماد ظاہر کیا کہ اسی دانشمندانہ قیادت کے سائے میں ایران موجودہ اور آئندہ چیلنجز سے عزت و وقار کے ساتھ کامیابی سے عبور کرے گا۔
آپ کا تبصرہ