اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صہیونی کابینہ کے وزیر خزانہ بزالل اسموتریچ نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ تل ابیب امریکہ اور ایران کے درمیان جاری فوجی کشیدگی میں براہِ راست شامل ہونے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔
انہوں نے ایک پریس کانفرنس کے موقع پر کہا کہ "موجودہ صورتحال ہمارے لیے بہتر ہے" اور اسرائیل اس تنازع میں براہِ راست داخل نہیں ہونا چاہتا۔
اس صہیونی عہدیدار نے اپنے حکومتی مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تل ابیب کا بنیادی ہدف "ایران کو کمزور کرنا" ہے، تاہم اس مقصد کے حصول کے لیے فوجی تصادم کے بجائے وہ اقتصادی اقدامات کو زیادہ مؤثر سمجھتا ہے۔
واضح رہے کہ مقبوضہ علاقوں کے بعض ماہرین کے اعتراف کے مطابق صہیونی رژیم کو رمضان جنگ اور بارہ روزہ جنگ کے دوران ناقابلِ تلافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، جن میں معیشت کا جمود، کاروباری سرگرمیوں میں کمی، فوجی صلاحیتوں کا کمزور ہونا اور سماجی اتحاد کو پہنچنے والے نقصانات شامل ہیں۔
آپ کا تبصرہ