اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اخبار یدیعوت آحرونوت نے صہیونی حکام کے حوالے سے لکھا ہے کہ نیتن یاہو اور ٹرمپ کے تعلقات میڈیا میں ظاہر ہونے والی خبروں سے بہتر ہیں، تاہم پسِ پردہ امریکی حکومت کے بعض حلقے دونوں رہنماؤں کی ملاقات روکنے کے لیے سرگرم ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ابھی تک ملاقات کی کوئی حتمی تاریخ طے نہیں ہوئی، جبکہ صہیونی وزیراعظم کا دفتر وائٹ ہاؤس کے ساتھ اس ملاقات کے انتظامات کے لیے رابطے میں ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ نیتن یاہو آئندہ ہفتے امریکہ کا دورہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن ٹرمپ سے ملاقات کے بغیر واشنگٹن جانے کے خواہاں نہیں۔
رپورٹ میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے صہیونی رژیم پر تنقیدی مؤقف کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اخبار کے مطابق وینس نے حالیہ دنوں میں بعض صہیونی حلقوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ امریکی رائے عامہ پر اثر انداز ہونے اور ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکراتی عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وینس نے مبینہ طور پر دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ صہیونی حکومت کے بعض ارکان ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے مخالف ہیں اور اسے ناکام بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
صہیونی میڈیا کے مطابق یہ مؤقف امریکہ میں، خصوصاً نوجوان ریپبلکن حلقوں میں، صہیونی رژیم کی حمایت میں آنے والی مبینہ کمی سے بھی متاثر ہوا ہے۔
آپ کا تبصرہ