بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی - ابنا - کے مطابق، اسلامی ایران سیدہ فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) کے پربرکت یوم ولادت کے موقع پر آج کا دن سراسر نور، سرور اور شادمانی سے مالامال تھا۔ اسی مناسبت سے حسینیۂ امام خمینی(رح) میں رہبر انقلاب اسلامی کی موجودگی میں ہزاروں محبان اہل بیت(ع) کے درمیان سیّدۃ نساء العالمین کی پرجوش مدیحہ سرائی، شعرخوانی اور منقبت خوانی کا اہتمام کیا گیا۔
تقریباً تین گھنٹے تک جاری رہنے والی اس محفل میں حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے سیدہ صدیقہ طاہرہ (سلام اللہ علیہا) کے یوم ولادت کی مبارکباد دیتے ہوئے فرمایا: "ایرانی عوام نے قومی مزاحمت سے، دشمن کی طرف سے، اس قوم کے "دینی، تاریخی اور ثقافتی تشخص" کو بدلنے کی مسلسل کوششوں کو ناکام بنایا ہے۔ آج بھی دشمن کی "ذہنوں، دلوں اور عقائد" پر حملہ کرنے والی دشمن کی تشہیری اور ابلاغی سرگرمیوں کے مقابلے میں، ایک مناسب دفاعی اور جارحانہ (Active) صف آرائی منظم کرنے کی ضرورت ہے اور اسی حال میں پیارا ایران موجودہ مسائل اور پورے ملک میں پائی جانے والی خامیوں کے باوجود مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔
رہبر انقلاب نے امام خمینی(رح) کے یوم ولادت کے حضرت فاطمہ زہرا(س) کے یوم ولادت سے تقارن (اور ہم زمانی) کو ایک عظیم واقعہ قرار دیا اور فرمایا: "سیدہ دو عالم کے فضائل و مناقب انسانی فہم و ادراک سے بالاتر ہیں؛ لیکن اس کے باوجود [ہم سب کو] فاطمی بننا [اور ہونا] چاہئے اور دین داری، عدالت پسندی، تشریحی و تبینی جہاد، خاوند داری، بچوں کی پرورش اور دیگر شعبوں کے ہر پہلو میں اس مثالی خاتون کی پیروی کرنی چاہئے۔
انھوں نے مداحی کو بہت مؤثر قرار دیا اور فرمایا: تحقیق و جستجو کے ذریعے اس حیرت انگیز ادبی اسلوب کے مختلف پہلوؤں کی گہرائی، نقائص کی نشاندہی اور اسے مضبوط و مکمل کرنے کے طریقوں کی تلاش ضروری ہے۔
امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے ماضی کے مقابلے میں، اس زمانے میں، مداحی کی ترقی اور فروغ حوالہ دیتے ہوئے، مداحی کو ادبِ مقاومت کے مراکز میں سے ایک قرار دیا اور فرمایا: "ہر فکر اور ہر امر مناسب ادب کے بغیر آہستہ آہستہ ختم ہو جاتا ہے، اور آج مداحی اور ہیئت (انجمن ہائے عزا)، ادبِ مقاومت کی تدوین، توسیع اور منتقلی کے ذریعے اس بنیادی ضرورت کو مضبوط کر رہے ہیں۔
رہبر انقلاب نے فرمایا: "'قومی مزاحمت (National Resistance)'" 'تسلط پسندوں کے ہر قسم کے دباؤ کے مقابلے میں استقامت، بردباری اور ثابت قدمی' کا نام ہے۔
آپ نے فرمایا: "کبھی دشمن کا یہ دباؤ فوجی ہوتا ہے - جیسا کہ قوم نے دفاعِ مقدس کے دوران اور بچوں اور نوجوانوں نے پچھلے مہینوں میں اپنی آنکھوں سے دیکھا - اور کبھی یہ دباؤ معاشی یا تشہیری، ابلاغی اور ثقافتی و سیاسی ہوتا ہے۔"
انقلاب کے رہبر نے میڈیا کے عناصر اور مغرب کے سیاسی-فوجی عہدیداروں کی ہوشیاری اور پروپیگنڈے کو دشمن کے پروپیگنڈے کے دباؤ کی علامت قرار دیا اور کہا: ظالم طاقتوں کے مختلف دباؤ کا مقصد اقوام پر، اور خاص طور پر ایرانی قوم پر، کبھی علاقائی توسیع ہے؛ جیسا کہ آج امریکی حکومت لاطینی امریکہ میں کر رہی ہے۔
رہبر انقلاب نے میڈیا کے عناصر اور مغرب کے سیاسی-فوجی عہدیداروں کی ہنگامہ پروری اور تلبیسِ اطلاعات (Disinformation) کو دشمن کی تشہیری-ابلاغی دباؤ کی علامت قرار دیا اور فرمایا: "اقوام عالم ـ خاص طور پر ایرانی قوم ـ پر ظالم طاقتوں کے مختلف قسم کے دباؤ سے کا مقصد کبھی علاقائی اور ارضی توسیع پسندی، ہوتا ہے؛ جیسا کہ آج امریکی حکومت لاطینی امریکہ میں کر رہی ہے۔
آپ نے مزید فرمایا: "کبھی زیرزمین وسائل پر تسلط مقصود ہوتا ہے، اور کبھی ان قوموں کا طرز زندگی تبدیل کرنا، اور سب سے اہم بات، "شناخت و تشخص کو تبدیل کرنا" ظالم طاقتوں کے دباؤ کا بنیادی مقصد ہوتا ہے۔
حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے ایرانی قوم کی "مذہبی، تاریخی اور ثقافتی" شناخت تبدیل کرنے کے لئے عالمی جابروں کی ایک سو سال سے زیادہ پرانی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا: "اسلامی انقلاب نے ان تمام منصوبوں کو ناکام بنا دیا، اور حالیہ دہائیوں میں، قوم نے اپنے دشمنوں کے وسیع دباؤ کے سلسلے کے سامنے سر تسلیم نہ جھکانے، اور استقامت و پامردی سے ناکام بنا دیا ہے۔"
آپ نے فرمایا: "یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ مقاومت و مزاحمت کا تصور، نیز ادبِ مقاومت، ایران سے خطے کے ممالک اور کچھ دیگر ممالک تک پھیل گیا۔ بلا شبہ کچھ کام جو دشمن نے ایران اور ایرانی قوم کے خلاف سرانجام دیئے، اگر وہ کسی اور ملک کے ساتھ کرتے، تو وہ قوم برباد ہوجاتی اور وہ ملک صفحۂ ہستی سے مٹ جاتا۔"
رہبر انقلاب نے شہیدوں کی یاد کو زندہ رکھنے اور ملک میں مزاحمت کے تصور کو گہرا کرنے اور پھیلانے میں 'زینبی مداحی' کے اثرات کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا: "آج ہم فوجی تصادم سے آگے، جو ہم نے دیکھا، 'ایک تشہیری اور ابلاغی جنگ کے مرکز' میں دشمن کے ایک وسیع محاذ کا سامنا کر رہے ہیں؛ کیونکہ دشمن سمجھ گیا ہے کہ یہ الہی اور روحانی سرزمین، فوجی دباؤ کے سامنے سر تسلیم نہیں جھکائے گی اور جنگ کے ذریعے اس پر فتح نہیں پائی جا سکتی۔"
آپ نے مزید فرمایا: "کچھ لوگ فوجی تصادم کے دہرائے جانے کا امکان ظاہر کرتے رہتے ہیں، اور کچھ جان بوجھ کر اس معاملے کو ہوا دیتے ہیں تاکہ لوگوں کو شک میں ڈال کر خوف پیدا کیا جائے، لیکن ان شاء اللہ وہ کامیاب نہیں ہوں گے۔"
امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے فرمایا: "'دشمن کی لکیر، خطرہ اور مقصد'، 'انقلاب کے آثار، اہداف و مفاہیم مٹائے جانے اور امام خمینی (رضوان اللہ علیہ) کی یاد فراموش کرائے جانے' میں ہے؛ امریکہ اس وسیع اور فعال محاذ کے مرکز میں کھڑا ہے، کچھ یورپی ممالک اس کے ارد گرد ہیں، اور وہ کرائے کے ایجنٹ، غدار اور وطن دشمن عناصر، جو یورپ میں آسائش کی تلاش میں ہیں، اس محاذ کے کنارے پر دکھائے دے رہے ہیں۔"
آپ نے دشمن کے اہداف اور "اس کی صف بندی" کی فہم و اس سے آگہی کو ضروری قرار دیا اور فرمایا: "فوجی محاذ کی طرح، اس تشہیری اور ابلاغی جنگ میں بھی ہمیں اپنا ترتیب اور صف بندی کا نظام دشمن کے نظام، منصوبے اور مقصد کو سمجھ کر، طے کرنا چاہئے اور ان مقامات پر اپنی توجہ مرکوز کرنا چاہئے جن کو اس نے نشانہ بنایا ہے، یعنی: "اسلامی، شیعہ اور انقلابی تعلیمات و معارف"۔
رہبر انقلاب نے فرمایا: "مغرب کی تشہیری اور ابلاغی جنگ کے مقابلے میں استقامت کرنا اور جم جانا مشکل ضرور ہے لیکن پوری طرح ممکن ہے؛ اس راستے میں، مداحان و ذاکران اہل بیت(ع)، انجمنوں اور ہیئتوں کو انقلاب کی اقدار سے وابستگی کا مرکزہ (Nucleus) بنائیں اور نوجوان نسل کی مداحی اور ہیئت کی طرف رغبت کی قدر کرتے ہوئے اس عزیز نسل کو ہر قسم کے وسائل سے لیس دشمن کے لجاج و عناد، شرپسندی پر مبنی اہداف و مقاصد کے مقابلے میں محفوظ بنائیں۔
رہبر انقلاب اسلامی امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے اپنا کلام چند سفارشات کے ساتھ مکمل کرلیا:
- تمام ائمہ ہُدیٰ (علیہم السلام) کی حیات طیبہ کے حوالے سے دینی اور جہادی معارف کی وضاحت،
- شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوششوں کے مقابلے میں مؤثر دفاع کے ساتھ ساتھ دشمن کی کمزوریوں کو نشانہ بنانا، اور
- ان سفارشات میں سے اہم ترین سفارش یہ تھی کہ مختلف شعبوں ـ 'ذاتی، سماجی، سیاسی میدانوں اور دشمن سے نمٹنے کے طریقوں ـ میں قرآنی مفاہیم کی وضاحت و تشریح کی جائے۔
آپ نے فرمایا: "ایک عمدہ انداز سے مرتّبہ اور اچھے مندرجات و معطیات پر مشتمل نوحے کا اثر ـ کبھی ـ کئی منبروں اور تقریروں سے زیادہ قرار ہوتا ہے۔"
آپ نے فرمایا: "مداحیں و ذاکرین احتیاط کریں کہ طاغوت کے دور کے نغمے اور ثقافت ان کے مجمعوں اور محفلوں میں کسی طور پر بھی نہ گھسنے پائیں۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ