بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ پینٹاگون میں خاموشی کا یہ عالم ایک ایسے بحران کا مظہر ہے جہاں "معلومات" کو ہتھیار بنا لیا گیا ہے، صحافیوں کو دشمن، اور سچائی کو قربانی کا بکرا۔ امریکی عوام ایک جنگ دیکھ رہے ہیں، مگر اس کی وسعت، قیمت اور انجام کے حوالے سے انہیں اندھیرے میں رکھا جا رہا ہے؛ اور یہ شاید خود اس جنگ کا سب سے بڑا نقصان دہ پہلو ہے۔
آغازِ ایک عجیب خاموشی
دو ماہ اور نصف سے پینٹاگون کی پریس بریفنگز کی روشنیاں بجھی پڑی ہیں۔ سی این این نے اس خاموشی کو امریکی عوام کے ساتھ شفافیت کی سنگین خلافورزی قرار دیا ہے۔ جہاں ایک طرف ایران کے خلاف فضائی حملوں کے پروپیگنڈے ہو رہے ہیں، وہاں وزیرِ دفاع پِیٹ ہِیگستھ کا منہ بند ہے؛ نہ کوئی حکمتِ عملی بیان، نہ امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کا اعتراف، نہ بے شمار اور بلا جواب سوالات کا کوئی جواب۔

جب دروازے بند ہو گئے
پہلے مرحلے کی جنگ میں پینٹاگون کے دروازے صحافیوں کے لئے کھلے تھے، بریفنگز کا سلسلہ باقاعدہ تھا۔ اب وہ زمانہ رخصت ہوگیا ہے۔ ہِیگستھ نے اپنے سابق آجر فاکس نیوز تک کو پیچھے دھکیل دیا ہے، نامہ نگاروں کو پینٹاگون کے احاطے سے نکال باہر کیا ہے، اور معلومات کے آزادانہ بہاؤ پر پہرے بٹھا دیئے ہیں۔
گذشتہ موسم سرما میں اس کے دفترِ امورِ عامہ نے تجربہ کار فوجی نامہ نگاروں کی جگہ ٹرمپ نواز ذرائع ابلاغ کو شامل کرنے کی کوشش کی؛ مگر اب وہی ٹرمپ نواز نامہ نگار بھی اس گھیرے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ 5 مئی کو 2026 آخری پریس بریفنگ ہوئی تھی، اور تب سے جیسے سب کچھ ٹھپ ہو گیا ہے، گویا کہ میڈیا کی چھٹی کر دی کئی ہے۔
نامعلوم ذرائع کا سہارا
فوجی صحافی اب مجبوراً گمنام ذرائع کا رخ کر رہے ہیں؛ وہی ذرائع جنہیں ہیگستھ کا نیا "انٹیلی جنس مخالف ٹاسک فورس" نشانہ بنا رہا ہے۔ ایک سینئر نامہ نگار نے کہا:
"خوف کا ماحول مزید گہرا ہو گیا ہے۔ ذرائع کو لگتا ہے کہ محض ایک صحافی سے بات کرنے پر انہیں گرفتار کر لیا جائے گا۔"
اردن اور عراق میں امریکی فوجیوں کی حالیہ ہلاکتوں کی تمام اطلاعات "نامعلوم عہدیداروں" کے حوالے سے آ رہی ہیں۔ پینٹاگون نے اپنے فوجیوں کی ہلاکت کے اعداد و شمار بھی اس وقت تک نہیں دیئے جب تک میڈیا نے خود ان کا انکشاف نہیں کیا تھا؛ گوکہ ہلاک شدگان کی تعداد خوب خوب گھٹا دی گئی!
وہ معلومات جو چھپا دی گئیں
نیویارک ٹائمز کے اِیرِک اشمٹ (Eric P. Schmitt) نے انکشاف کیا کہ ایران نے حال ہی میں اردن میں امریکی افواج پر تین مزید حملے کئے، جن میں درجنوں فوجی زخمی اور متعدد ہیلی کاپٹر تباہ ہوئے، مگر پینٹاگون نے ان حملوں کا ذکر تک نہیں کیا۔
اشمٹ نے مزید پردے بھی اٹھا لئے
• ٹرمپ انتظامیہ نے یہ نہیں بتایا کہ ایران کے خلاف جنگ نے امریکہ کے مہنگے اور اسٹریٹجک ہتھیاروں کے ذخیرے کو کیسے خالی کر دیا ہے۔
• ایران نے اپنی میزائیل صلاحیتوں کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ انہیں دوبارہ تعمیر بھی کیا؛ اس حقیقت کو امریکی عوام سے چھپایا گیا۔
واشنگٹن پوسٹ نے ایک گمنام عہدیدار کے حوالے سے لکھا:
"ہمارے پاس آپریشن جاری رکھنے کے لئے کافی گولہ بارود دستیاب نہیں ہے؛ اور مجھے نہیں لگتا کہ وائٹ ہاؤس کو اس کا علم ہوگا۔"
وزیرِ دفاع کا عجیب مشغلہ
ہیگستھ جنگ کے بارے میں کم، اور دیگر چیزوں کے بارے میں زیادہ بولتا ہے۔ حال ہی میں اس نے امریکی فوجیوں کے لئے ٹیسٹوسٹیرون اسکریننگ پروگرام (Testosterone screening program) کی تشہیر کرتے ہوئے ایک ویڈیو جاری کر دی، اور "حقائق فاش کرنے والے افراد کو پکڑنے کے لئے خصوصی فورس" کا اعلان کیا، مگر جب صحافیوں نے مزید تفصیلات مانگیں تو پینٹاگون خاموش رہا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: محمد رضا جعفری
تلخیص و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ