21 جولائی 2026 - 18:00
جنگِ ایران نے ٹرمپ اور نیتن یاہو کے اختلافات کھول کر رکھ دیے، امریکی تجزیہ کار کا دعویٰ

ایک امریکی سیاسی تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ نے ڈونلڈ ٹرمپ اور بنیامین نیتن یاہو کے درمیان موجود اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے، جبکہ جنگی اہداف پورے نہ ہونے سے دونوں رہنماؤں کے درمیان اعتماد بھی متاثر ہوا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، کیٹو انسٹی ٹیوٹ کے تجزیہ کار اور سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن کے مشیر ڈاگ باندو نے ایک امریکی میڈیا ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا خیال تھا کہ صہیونی رژیم مختصر مدت میں ایران کے خلاف اپنے اعلان کردہ اہداف حاصل کر لے گی اور یہ کامیابی امریکی حکومت کے لیے ایک اہم سیاسی کامیابی ثابت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ جنگ کے طول پکڑنے اور متوقع نتائج حاصل نہ ہونے کے باعث ٹرمپ کو احساس ہوا کہ انہوں نے اس جنگ کے نتائج کا درست اندازہ نہیں لگایا تھا، جس سے ان کے اور نیتن یاہو کے تعلقات میں دراڑ نمایاں ہوئی ہے۔

ڈاگ باندو کے مطابق، ٹرمپ اس وقت زیادہ تر داخلی سیاسی حالات کو مدنظر رکھے ہوئے ہیں اور ممکن ہے کہ مزید سیاسی نقصان سے بچنے کے لیے وہ کشیدگی کم کرنے کا راستہ اختیار کریں۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب متعدد امریکی اور صہیونی ذرائع ابلاغ بھی واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان ایران کے خلاف جنگ کی حکمت عملی پر اختلافات کی اطلاعات دے چکے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق، ایک طرف ٹرمپ طویل اور مہنگی جنگ سے گریز کرتے ہوئے سفارتی راستہ کھلا رکھنے کے حامی ہیں، جبکہ دوسری جانب بنیامین نیتن یاہو ایران پر فوجی دباؤ برقرار رکھنے پر زور دے رہے ہیں۔ اسی دوران یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے بعض قریبی ساتھیوں نے ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ملاقات روکنے کی کوشش کی، جو ایران کے معاملے پر امریکی انتظامیہ کے اندر پائے جانے والے اختلافات کی عکاسی کرتی ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha