اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، روزنامہ الاخبار کی رپورٹ کے مطابق لبنان کے چیف پبلک پراسیکیوٹر احمد رامی الحاج نے داخلی سلامتی کے ادارے کے شعبۂ اطلاعات کو ہدایت دی ہے کہ صحافی حسن علیق کو سعودی عرب کی یمن پالیسی سے متعلق سوشل میڈیا پر شائع کی گئی پوسٹوں کے سلسلے میں طلب کیا جائے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ لبنان کے صدر نے اس سے قبل سعودی عرب کی توہین کرنے والوں کے خلاف کارروائی پر زور دیا تھا، جس کے بعد پراسیکیوشن نے سوشل میڈیا پر شائع ہونے والے مواد کو پریس کورٹ کے دائرۂ اختیار سے باہر قرار دیتے ہوئے اسے عام عدالتی کارروائی کے تحت قابلِ سماعت قرار دیا ہے۔
حسن علیق نے اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ شعبۂ اطلاعات کے سامنے پیش نہیں ہوں گے، کیونکہ ان کے بقول صحافیوں سے متعلق مقدمات کی سماعت صرف پریس کورٹ میں ہونی چاہیے۔
الاخبار نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ اس مقدمے کے سلسلے میں بعض سعودی حکام نے لبنانی حکام سے بھی رابطے کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر صحافیوں کی سرگرمیوں سے متعلق پراسیکیوشن کی نئی تشریح مستقبل میں لبنان میں آزادیٔ صحافت اور آزادیٔ اظہار پر اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
آپ کا تبصرہ