اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،عراق کے بعض پارلیمانی ارکان نے حشد الشعبی کے خلاف مبینہ امریکی اسرائیلی منصوبوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس ادارے کو نشانہ بنانے سے عراق کے داخلی امن اور سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
میڈیا کے مطابق، عراقی رکن پارلیمنٹ محمود شاکر نے کہا ہے کہ حشد الشعبی عراق کے سرکاری سیکیورٹی ڈھانچے کا حصہ ہے اور اس کے خلاف کسی بھی اقدام سے ملک کے استحکام پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ سرگرمیوں اور بعض منصوبہ بند اقدامات کا مقصد مختلف طریقوں سے حشد الشعبی کے اہلکاروں کو کمزور کرنا ہے، جو ان کے مطابق عراق کے دفاعی نظام کا ایک اہم حصہ ہیں۔
محمود شاکر نے خبردار کیا کہ بیرونی دباؤ یا ایسے اقدامات جو عراق کے سیکیورٹی اداروں کو متاثر کریں، ملک میں امن و امان کی صورتحال کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
انہوں نے عراقی سیاسی جماعتوں اور حکومت پر زور دیا کہ وہ قومی سلامتی کے اداروں کے تحفظ کے لیے واضح مؤقف اختیار کریں اور ملک کے سیکیورٹی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کریں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حشد الشعبی عراق میں ایک سرکاری سیکیورٹی تنظیم کے طور پر کام کرتی ہے، جس کا قیام داعش کے خلاف جنگ کے دوران ہوا تھا۔ اس تنظیم کے کردار، اختیارات اور علاقائی سیاست میں اثر و رسوخ پر عراق کے اندر اور باہر مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔
آپ کا تبصرہ