14 جولائی 2026 - 17:03
انصار اللہ رہنما: صنعاء میں طیارہ اتارنے پر اصرار سعودی عرب اور امریکہ کے لیے واضح پیغام ہے

یمن کی تحریک انصار اللہ کے سیاسی دفتر کے رکن محمد الفرح نے کہا ہے کہ قومی وفد اور مریضوں کی اپنی مقررہ پرواز کے ذریعے صنعاء واپسی پر اصرار یمن کے قومی حقوق اور خودمختاری پر ثابت قدمی کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعاء کسی بیرونی دباؤ یا مسلط کردہ شرائط کو قبول نہیں کرے گا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، یمن کی تحریک انصار اللہ کے سیاسی دفتر کے رکن محمد الفرح نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیانات میں قومی وفد اور مریضوں کی یمن واپسی کے حوالے سے صنعاء کے مؤقف کی وضاحت کی۔

انہوں نے کہا کہ قومی وفد اور مریضوں کی اپنی منتخب کردہ پرواز کے ذریعے صنعاء بین الاقوامی ہوائی اڈے پر واپسی پر اصرار، قومی حقوق سے وابستگی اور ہر قسم کے بیرونی دباؤ و احکامات کو مسترد کرنے کا واضح اظہار ہے۔ ان کے مطابق یمنی قیادت کسی بھی قربانی کے باوجود عوام کے حقوق سے دستبردار نہیں ہوگی۔

محمد الفرح نے کہا کہ قومی وفد اور مریضوں کی وطن واپسی کے مخصوص راستے پر اصرار دراصل اس بات کا واضح پیغام ہے کہ صنعاء کسی نئی حقیقت یا مسلط کردہ شرائط کو قبول نہیں کرے گا اور قومی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ تمام مشکلات کے باوجود طیارے کا یمن کی سرزمین پر اترنا اس یقین کی عکاسی کرتا ہے کہ مریضوں، پھنسے ہوئے شہریوں اور قومی وفود کی آزادانہ آمدورفت اور وطن واپسی ایک بنیادی اور ناقابلِ تنسیخ حق ہے، جسے یمنی عوام اپنی خودمختاری کی بحالی اور محاصرے کے خاتمے کی جدوجہد کا حصہ سمجھتے ہیں۔

انصار اللہ کے رہنما نے کہا کہ گزشتہ برسوں کے تجربات نے ثابت کیا ہے کہ جب سیاسی اور سفارتی راستے بند کر دیے جائیں تو حقوق کا حصول ناگزیر ہو جاتا ہے، اور صنعاء نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنے جائز حقوق سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔

محمد الفرح نے سعودی عرب کے مؤقف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک طرف سعودی عرب، امریکہ، برطانیہ اور صہیونی حکومت یمن پر فضائی حملوں کو مختلف جواز فراہم کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف مریضوں یا یمنی وفود کی اپنے وطن واپسی کو خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اپنے اہل خانہ کے پاس واپس جانے والے مریض، برسوں سے پھنسے زخمی افراد یا جنازے میں شرکت کے بعد وطن لوٹنے والے وفود کو "خودمختاری کے لیے خطرہ" قرار دینا دراصل یمن پر مسلط اقدامات کا جواز پیش کرنے اور اصولی مؤقف میں کھلے تضاد کا مظہر ہے۔

محمد الفرح نے آخر میں کہا کہ خودمختاری اور قومی حقوق صنعاء اور یمنی عوام کے لیے ناقابلِ سودا اصول ہیں، اور پابندیوں یا دباؤ کے باوجود یمن اپنے جائز حقوق، محاصرے کے خاتمے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha