بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکی تجزیہ کار برینڈن وائیچرٹ (Brandon J. Weichert) نے ایک صریح تجزیئے میں سعودی عرب کی جانب سے یمن میں انصاراللہ کے ٹھکانوں پر حالیہ حملوں کے پس پردہ اسباب پر روشنی ڈالی۔
انھوں نے اس سلسلے میں کہا: "سعودیوں کا حوثیوں پر حملے کی وجہ یہ ہے کہ محمد بن سلمان بخوبی جانتا ہے کہ ٹرمپ جلد ہی امریکہ کا ایران پر زمینی حملہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس وقت، حوثی بہرحال سعودیوں کی طرف حملہ کریں گے۔ لہٰذا، محمد بن سلمان اس سے پہلے، کہ امریکی اپنی پاگل پن پر منصوبہ بندی پر عمل درآمد شروع کریں، پیشگی طور پر حالات کو اپنے حق میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہےں۔"

امریکی تجزیہ کار برینڈن وائیچرٹ کے مطابق، سعودی عربستان کی جانب سے یمن میں صنعا ہوائی اڈے اور انصاراللہ کے ٹھکانوں پر حالیہ حملے دراصل محمد بن سلمان کی طرف سے ایران پر ممکنہ زمینی امریکی حملے سے قبل قواعد کی پیشگی تبدیلی کی کوشش کے زمرے میں آتے ہیں۔
وائیچرٹ کا کہنا ہے کہ بن سلمان بخوبی جانتا ہے کہ ٹرمپ جلد ہی ایران پر زمینی حملہ شروع کرنے والا ہے، جس کے بعد حوثی بہرحال سعودیوں پر حملہ کریں گے، اس لئے وہ امریکی کارروائی سے پہلے ہی حالات کو اپنے حق میں بدلنا چاہتا ہے۔
سعودی جنگجوؤں نے صنعا بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بمباری کی، جو ایرانی مسافر طیارے کی لینڈنگ کے موقع پر دوران ہوئی۔ یمنی حکام نے اسے جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی اور اعلانِ جنگ قرار دیا۔ جواب میں یمنی فوج نے ابہا ہوائی اڈے سمیت سعودی فوجی اہداف پر متعدد میزائل داغے، جسے انصاراللہ نے "مضبوط اور تباہ کن" جواب قرار دیا۔ انصاراللہ کے رہنماؤں نے امریکہ اور سعودی عرب کو اس تناؤ کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
ماہرین کے مطابق، یہ ریاض کی جانب سے کسی بڑے علاقائی تنازع سے قبل محورِ مقاومت کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔
بن سلمان، جو کئی سالوں کی جنگ کے بعد یمن سے باوقار انخلا چاہتا تھا، اب ایران کی حمایت میں انصاراللہ کی بڑھتی ہوئی طاقت سے پریشان ہے اور پیشگی کارروائی پر اتر آیا ہے، جبکہ صنعاء حکومت نے خبردار کیا ہے کہ ہر نئی جارحیت کا جواب دیا جائے گا۔
وائیچرٹ کا تجزیہ سعودی عرب کی گہری تشویش کو ظاہر کرتا ہے کہ ایران-امریکہ براہِ راست تصادم کی صورت میں صنعاء محورِ مقاومت کے ایک فعال محاذ کے طور پر سعودی تیل کی تنصیبات اور ہوائی اڈوں پر وسیع حملے کر سکتے ہیں۔
یمنی مقاومت بحیرہ احمر میں کامیاب کارروائیوں سے علاقائی معاشی اور فوجی فارمولوں کو چیلنج کر چکی ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ سعودی محاصرہ اور جارحیت یمنی عوام کے عزم کو متاثر نہیں کر سکتی۔
خلاصہ یہ کہ سعودی حملہ نہ صرف کمزور سی جنگ بندی کو ختم کر دیتا ہے بلکہ سعودی حکومت کے مستقبل کے خوف اور عبرانی-عربی-امریکی محور کے مقابلے میں محور مقاومت کی بڑھتی ہوئی طاقت کا اظہار بھی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ